تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 137
کبھی کوئی زمانہ ایسا نہیں آسکتا جس میں یہ کہا جا سکے کہ ایمان باللہ کی اب ضرورت نہیں رہی۔دوسرے یوم آخرت پر ایمان ہو۔یہ حکم بھی کبھی نہیںبدل سکتا۔تیسرے ملائکہ پر ایمان ہو یہ صداقت بھی ہمیشہ سے چلی آئی ہے اور چلی جا ئےگی۔چہارم کتاب یعنی وحی الہٰی پر ایمان ہو۔اس جگہ الکتاب کا لفظ اللہ تعالیٰ نے واحد رکھا ہے۔اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ کسی ایک کتاب پر بھی ایمان لانا کافی ہے بلکہ الکتاب سے مراد یہ ہے کہ وہ ساری وحی ءِالہٰی پر ایمان لانے والا ہو۔خواہ کسی پہلے زمانہ میں نازل ہو چکی ہو۔یا آئندہ نازل ہو۔پنجم اسے نبیوں پر ایمان ہو۔یہ پانچوں نیکیاں ایسی ہیں جن کے بغیر کبھی کوئی شخص روحانیت کا ادنیٰ سے ادنیٰ مقام بھی حاصل نہیں کر سکتا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اعمال کی طرف توجہ کی ہے اور سب سے پہلے مال خرچ کرنے کا ذکر فرمایا ہے مگر اس کے لئے بھی صرف اٰتَی الْمَالَ نہیں فرمایا کیونکہ اگر انسان ناجائز طور پر مال خرچ کر دے تو یہ نیکی نہیں بلکہ بدی ہے۔اس لئے اٰتَی الْمَالَ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے عَلٰی حُبِّہٖ رکھا اور حُبِّہٖ کی ضمیر مال کی طرف جا سکتی ہے اور اِیْتَائِ مال کی طر ف بھی جا سکتی ہے اور اس شخص کی طرف بھی جا سکتی ہے جسے مال دیا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف بھی جا سکتی ہے۔پہلی صورت میں اس کے یہ معنے ہوںگے کہ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّ الْمَالِ یعنی باوجود مال کی محبت کے وہ اُسے خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے۔دوسری صورت میں اس کے یہ معنے ہیں کہ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّ اِیْتَاءِ الْمَالِ۔یعنی وہ اپنا مال چٹّی سمجھ کر نہ دے بلکہ اُسے صدقہ و خیرات دینے کا شوق ہو۔اور وہ اس نیکی میں ایک لذّت محسوس کرتے ہوئے اپنا مال پیش کرے۔تیسری صورت میں اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ جسے مال دے اسے ذلیل سمجھ کر نہ دے بلکہ اپنا بھائی سمجھ کر دے۔اسی طرح اس کی عادات بگاڑنے کے لئے نہ دے بلکہ اس لئے دے کہ وہ اُسے اچھے کاموں میں لگائے۔اورترقی کرے۔چوتھی صورت میں اس کے یہ معنے ہیں کہ اٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّ اللّٰہِ وہ اللہ کی رضا اور اس کی محبت کے حصول کے لئے مال دے کوئی دنیوی مفاد یا شہرت اس کے پیچھے کام نہ کر رہی ہو۔ان چار شرائط کے ساتھ مال خرچ کرنا کبھی ناپسندیدہ نہیں ہو سکتا۔یا یوں سمجھ لو کہ یہ مال خرچ کرنے کے چار مدارج ہیں۔پہلا درجہ ادنیٰ ہے جس کی طرف قریب کی ضمیر پھر سکتی ہے۔دوسرا درجہ اس سے اعلیٰ ہے۔تیسرا درجہ اس سے بھی اعلیٰ ہے اور چوتھا درجہ سب سے اعلیٰ ہے۔پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان کے دل میں مال کی محبت ہو اور پھر بھی وہ اسے خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے۔دوسرا درجہ یہ ہے کہ نیک کاموں میں روپیہ خرچ کرنے کی اُسے عادت ہو گئی ہو اور اس کا مزہ اس نے چکھا ہوا ہو جس کی وجہ سے وہ خود دلی شوق اور محبت سے اس قسم کی نیکیوں کی تلاش میں رہے۔تیسرا درجہ یہ ہے کہ جسے مال دیا جائے اُسے اپنا بھائی سمجھ کر دیا جائے تاکہ وہ اُسے اچھے کاموں میں لگائے اور ترقی کرے لیکن پھر اس سے بھی