تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 134
تھی اور نہ اس کی آنکھیں سلامت تھیں مگر اس نے پہچان لیا کہ ایسی سنگدلی حاجی میں ہی پائی جاسکتی ہے لیکن باوجود اس کے پھر بھی عام طور پر ہمارے ملک میںحاجیوں کو بڑا نیک سمجھا جاتا ہے لیکن عرب میں جائو تو وہ لوگ حج کو نیکی قرار نہیں دیںگے بلکہ ان میں نیکی سخاوت کو سمجھا جائےگا۔وہ لوگ اگر کسی کی نیکی کی تعریف کریںگے تو کہیں گے کہ فلاں شخص بڑا نیک ہے کیونکہ بڑا سخی ہے۔اسی طرح اب یورپ میں اسلام پھیلے تو وہاں روزے کو بڑی نیکی سمجھا جائےگا کیونکہ وہ لوگ کثرت سے کھانے پینے والے ہیں۔پس جب ان کو کھانے پینے سے رکنا پڑے گا تو وہ حج اور زکوٰۃ اور نمازوغیرہ احکام شرعی کی بجا آوری کو اعلیٰ نیکی قرار دینے کی بجائے صرف روزہ رکھنے کو سب سے بڑی نیکی قرار دیںگے۔پھر ہمارے ملک میں یہ بھی بڑی نیکی خیال کی جاتی ہے کہ کوئی شخص نماز کا پابند ہو۔ایسے شخص کے متعلق بھی لو گ کہتے ہیں کہ بڑا نیک ہے کیونکہ نماز کاپا بند ہے۔لیکن صحابہؓ کے نزدیک کسی شخص کی نیکی کا معیار محض پابندیٔ نماز نہیں تھا کیونکہ وہ لوگ نیکی کے اس اعلیٰ مقام پر کھڑے تھے جہاں صرف پابندیٔ نماز کو بڑی نیکی قرار دینا ایسی ہی بات تھی جیسے کہا جائے فلاں شخص بڑا بہادر ہے کیونکہ وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو گیا ہے یا فلاں شخص بڑا تیز نظر ہے کیونکہ اس کی ماں جو اس کے پاس بیٹھی تھی اسے اُس نے پہچان لیا ہے۔یا فلاں شخص کا معدہ بڑا ہی مضبوط ہے کیونکہ اس نے ایک چنا ہضم کر لیا۔پس جیسا کہ بہادری تیز نظری اور مضبوطی معدہ کے یہ معیار نہایت مضحکہ خیز ہیں اسی طرح صحابہؓ کے نزدیک کسی شخص کی نیکی کا معیار محض پابندیٔ نماز مضحکہ خیز تھا۔کیونکہ وہ لوگ دین کے لئے بڑی بڑی قربانیاں اور سخت آزمائشوں کو نیکی سمجھتے تھے اور جس شخص میں یہ باتیں زیادہ پاتے تھے اس کو نیک سمجھتے تھے۔پس نیک اور نیکی کی تعریف ہر زمانہ ہر ملک اور ہر قوم میں جُدا جُدا اور مختلف رہی ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مشرق اور مغرب کی طرف منہ پھیرنا کوئی نیکی نہیں۔اگر کوئی شخص قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتا ہے اور اُس کی نماز میں وہ اخلاص نہیں جو حقیقی نماز میں ہوتا ہے تو اسے قبلہ کی طرف منہ کر کے بھی کچھ حاصل نہیں ہو سکتا کیونکہ نیکی منہ کے کسی طرف پھیر لینے کا نام نہیں۔بلکہ نیکی نام ہے اس کیفیت کا جو دل کے اندر پیدا ہوتی ہے اور ظاہری حرکات اُس کیفیت کا ایک نشان ہیں۔پس اگر ان ظاہری حرکات میں وہ چیز نہیں جس کا دل سے تعلق ہے تو یہ ظاہری حرکات کچھ چیز نہیں۔محض قبلہ کی طرف رُخ کرنا یا نماز پڑھنا یا روزہ رکھنا یا حج کرنا یہ تمام باتیں دلی کیفیت نہ ہونے کے باعث ہیچ ہوجاتی ہیں کیونکہ یہ وہ ہتھیار ہیں جو بغیر اس قلبی کیفیت کے کُند اور ناکارہ ہوتے ہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک شخص کے پاس تلوار تو ہو مگر کُند ہو یا ہتھیار تو ہوں مگر زنگ خوردہ ہوں۔پس جس طرح ہتھیاروں کی قیمت ان کی تیزی اور صفائی سے وابستہ ہے اسی طرح ان اعمال کی قدروقیمت خدا تعالیٰ کی نظر میں اُسی وقت ہوتی