تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 133
مفرداتِ امام راغب میں لکھا ہے اَلْبِرُّ: اَلتَّوَسُّعُ فِیْ فِعْلِ الْخَیْرِ۔پھر لکھاہے بَرَّ الْعَبْدُ رَبَّہٗ اَیْ تَوَسَّعَ فِیْ طَاعَتِہٖ فَمِنَ اللّٰہِ تَعَالیٰ اَلثَّوَابُ وَفِی الْعَبْدِ اَلطَّاعَۃُ۔یعنی بِرّ کے معنے ہیں نیکی میں وسعت اختیار کرنا۔چنانچہ بَرَّ الْعَبْدُ رَبَّہُ کے معنے ہیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں وسعت اختیار کی۔برّ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس سے مراد ثواب دینا ہے اوراگر بندے کی طرف منسوب ہو تو اس سے مراد اطاعت کرنا ہے۔اَلْبَاسَآءُ کے معنے ہیں اَلشِّدَّۃُ شدت (۲) اِسْمٌ لِلْحَرْبِ جنگ (۳) اَلْمُشَقَّۃُ وَالضَّرْبُ مشقت اور مار۔(اقرب) اَلضَّرَّآءُ کے معنے ہیں(۱) اَلزَّمَانَۃُ قحط(۲) اَلشِّدَّۃُ سختی و مصیبت (۳) اَلنَّقْصُ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ۔مال اور افرادمیں کمی (۴) نَقِیْضُ السَّرَّآءِ یہ سَرَّاء یعنی فراخی کا اُلٹ ہے۔(اقرب) اَلْبَاْسُ کے معنے ہیں (ا) اَلْفَقْرُ مالی مشکلات۔(۲) اَلْعَذَابُ عذاب (۳) اَلشِّدَّۃُ فِی الْحَرْبِ جنگ کی سختی (۴) اَلْقُوَّۃُ قوت۔قرآن کریم میں آتا ہے وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ کہ ہم نے لوہے کو نازل کیا جس میں بڑی قوت ہے۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نیکی اورتقویٰ کے متعلق اسلامی نقطہء نگاہ لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے اور بتایا ہےکہ حقیقی نیکی کس چیز کا نام ہے؟ اگر غور سے کام لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا میں نیکی اور تقویٰ کے متعلق بہت کچھ اختلاف پایا جاتا ہے اور مختلف جماعتوں اور مختلف قوموں اور مختلف زمانہ کے لوگوں کے نزدیک نیکی کی تعریف مختلف رہی ہے۔غرباء نیکی کی کچھ اور تعریف کرتے ہیں اور اُمراء کچھ اور کرتے ہیں۔پھر ممالک کے لحاظ سے بھی نیکی کی تعریف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ہندوستان میں حاجی بڑے نیک شمار ہوتے ہیں یہاںتک کہ ایک شخص خواہ صوم و صلوٰۃ اور دوسرے احکام شرعی کا کتنا ہی پابند کیوں نہ ہو لوگ اس کے مقابلہ میں حاجی کو ترجیح دیںگے خواہ اس نے سفر حج میں اپنے اوقات فضول اور لغو طور پر ہی ضائع کئے ہوں اور حج کرنے کے بعد بھی اپنے اندر کوئی تغیر پیدا نہ کیا ہو۔اور صوم و صلوٰۃ کا بھی چنداں پابند نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃو السلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک ریل کے سٹیشن پر ایک نابینا بڑھیا بیٹھی تھی کہ ایک شخص نے اس کی چادر اُٹھالی۔بڑھیا کو جب پتہ لگا کہ چادر غائب ہے تو اس نے آواز دے کر کہا۔کہ بھائی حاجی! مجھ غریب کی چادر کیوں لی ہے؟ میرے پاس تو اَور کوئی کپڑا نہیں میں تو سردی سے ٹھٹھر کر مر جائوں گی۔وہ چادر تو اس شخص نے لا کر رکھ دی مگر پوچھا کہ تجھے کس طرح پتہ لگا کہ میں حاجی ہوں۔بڑھیا نے جواب دیا کہ ایسے کام حاجی ہی کیا کرتے ہیں۔اب دیکھو !وہ عورت اس سے واقف نہ