تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 120
پہلے ہیضہ کی علامات ظاہر ہوتی ہیں پھر بخار ہوجاتا ہے پھر بدن میں درد شروع ہو جاتا ہے اور آخر میں نمونیا ہو جاتا ہے۔میڈیکل جیورس پروڈنس میں لکھا ہے کہ اس مرض کا کوئی علاج نہیں۔اسی طرح سؤر کے گوشت سے آنتوں میں کیڑے پڑ جاتے ہیں جو کدّو دانہ کے مشابہ ہوتے ہیں اور سالہا سال تک رہتے ہیں۔ڈاکٹر ایف بٹلر ایم۔ڈی۔ایف۔آر۔سی۔پی اپنی کتاب ’’پریکٹس آف میڈیسن‘‘ میں لکھتے ہیں کہ سؤر میں یہ بیماری پاخانہ کھانے سے پیدا ہوتی ہے لیکن ان ضرروں سے بھی بڑھ کر بلکہ اصل باعث اس کی حرمت کا وہ خرابیاں ہیں جو اخلاق میں پیدا ہوتی ہیں۔صرف سؤرہی ایک ایسا جانور ہے جس میں نرکو نر پر پھاندنے کی عادت ہے پس وہ لوگ جو سؤر کا گوشت کھانے کے عادی ہیں ان میں بھی دیّوثی بڑھ جاتی ہے اور حیا کا مادہ کم ہو جاتا ہے۔پھر اُس میں شجاعت بھی نہیں ہوتی بلکہ تہور کی عادت ہوتی ہے جس وقت اسے غصہ آجائے وہ آگے پیچھے نہیں دیکھتا بلکہ سیدھا حملہ کرتا ہے او راسی عادت کی وجہ سے شکاری اسے جلد مار لیتا ہے۔جب شکار ی اُسے گولی مارتا ہے تو وہ غصہ میں سیدھا حملہ کرتا ہے اور اس طرح جلدی گِر جاتا ہے۔اسی طرح جو قوم سؤر کا گوشت کھانے والی ہوگی اس میں بھی شجاعت نہیں پائی جائے گی بلکہ تہوّر پایا جائے گا۔بانی سلسلہ احمدیہ اپنی مشہور تصنیف’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں خنزیر کی حرمت کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔’’ایک نکتہ اس جگہ یاد رکھنے کے قابل ہے اور وہ نکتہ یہ ہے کہ خنزیر جو حرام کیا گیا ہے خدا نے ابتداء سے اس کے نام میں ہی حرمت کی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ خنزیر کا لفظ خنز اور اَر سے مرکب ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ میں اس کو فاسد اور خراب دیکھتا ہوں۔خنز کے معنے بہت فاسد۔اَرٰ کے معنے دیکھتا ہوں پس اس جانور کا نام جو ابتداء سے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو ملا ہے وہی اس کی پلیدی پر دلالت کرتا ہے اور عجیب اتفاق یہ ہے کہ ہندی میں اس جانور کو سور کہتے ہیں یہ لفظ بھی سوء اور اَر سے مرکب ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ میں اس کو بہت بُرا دیکھتا ہوں۔…… اور یہ معنے جو اس لفظ کے ہیں یعنی بہت فاسد اس کی تشریح کی حاجت نہیں۔اس بات کا کس کو علم نہیں کہ یہ جانور اول درجہ کا نجاست خور اور نیز بے غیرت اور د ّیوث ہے۔اب اس کے حرام ہونے کی وجہ ظاہر ہے کہ قانونِ قدرت یہی چاہتا ہے کہ ایسے پلید اور بد جانور کے گوشت کا اثر بدن اور روح پر پلید ہی ہو۔کیونکہ ہم ثابت کر چکے ہیں کہ غذائوں کا بھی انسان کی روح پر ضرور اثر ہے۔پس اس میں کیا شک ہے