تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 8
پچھلوں کو اپنے ساتھ ملائیں اور یہی عشق کی کیفیت ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ مومنوں سے یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ اس کے پاس اکیلے نہ آئیں بلکہ دوسروں کو بھی ساتھ لیتے آئیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو مصر کی طرف روانہ کرتے وقت کہا تھا کہ تم نے اکیلے نہیں آنا بلکہ بن یا مین کو بھی ساتھ لیتے آنا۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی کہتا ہے کہ تم میرے پاس دوڑ کر آنا اور اکیلے نہ آنا بلکہ میرے دوسرے روحانی بیٹوں کو بھی ساتھ لے کر آنا۔مومن دوڑتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے حضور جانا ہے وہاں میں اُسے کیا جواب دوں گا اس لئے وہ دوسروں کو بھی کھینچ کر اپنے ساتھ ملا لیتا ہے۔غرض کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اور وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ نےحسد اور خود غرضی کی جڑ کاٹ دی ہے کیونکہ مومن جس خیر کو خود حاصل کرےگا وہ فوراً اس میں شامل کرنے کے لئے دوسروں کو بھی بُلائےگا اور اس طرح نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کا جہاں ایک لطیف مقابلہ جاری رہےگا وہاں خود غرضی اور حسد کا بھی کوئی شائبہ دکھائی نہیں دےگا۔یہ کیا ہی لطیف مقابلہ مبادرہ اور پھر مجاذبہ ہے۔اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا۔فرماتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو گے آخر ایک دن اللہ تعالیٰ تم سب کو اکٹھا کر کے اپنے پاس لے آئےگا اور تمہیں اپنی سستیوں اور غفلتوں اور لوگوں کو نیکیوں کی دوڑ میں پیچھے چھوڑنے کا جواب دینا پڑے گا۔پس اُس دن کا تمہیں خیال رکھنا چاہیے اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی سے کام نہیں لینا چاہیے وہ تم سے ضرور پوچھے گا کہ جب میں نے تمہیں اسلام جیسی نعمت عطا فرمائی تھی تو تم نے اسے دوسروں تک کیوں نہ پہنچایا اور نیکیوں کی دوڑ میں تم نے دوسروںسے سبقت لے جانے کی کیوں کوشش نہ کی پس تم اُس دن کے آنے سے پہلے پہلے تیاری کر لو اور اپنے اعمال کا جائزہ لو۔ایسا نہ ہو کہ اس دن تمہیں شرمندگی لاحق ہو اور خدا تعالیٰ کے حضور تم مجرم قرار پائو۔اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے تم اس مقصد کو ناقابلِ حصول مت سمجھو۔جیسا کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہماری قسمت میں کہاں رکھا ہے کہ ہم اتنا بڑا مقام حاصل کر سکیں۔وہ ہمت سے کام لینا ترک کر دیتے ہیں اور ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو کچھ خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مقدر کیا ہے وہی کچھ ہمیں ملے گا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں بڑی طاقتیں رکھی ہیں وہ نیکیوں میں خود بھی بڑھ سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھینچ کر اپنے ساتھ شامل کر سکتا ہے۔یہ کام ناممکنات میں سے نہیں ہے۔