تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 114
فرق ہے کہ دوسرے مذاہب صرف حلال حرام تک اپنے آپ کو محدود رکھتے ہیں اور اسلام حلال اور حرام کے علاوہ بعض چیزوں کو طیّب یا مکروہ بھی قرار دیتا ہے۔اور یہ بھی بتاتا ہے کہ کونسی چیزیں بعض حالات میں حلال ہو جاتی ہیںگو اصل میں حرام ہوں اور کون سی چیزیں بعض حالات میں حرام ہو جاتی ہیں گو اصل میں حلال ہوں اور اس طرح موازنہ اشیاء کو قائم کرتا اور ایک لطیف باب گناہ اور نیکی کے امتیاز کے لئے کھول دیتا ہے مثلاً ہماری شریعت میں لوگوں کو ایذاء دینے سے منع کیا گیا ہے۔اب اگر حلال چیز سے کسی وقت دوسروں کو ایذاء پہنچ جائے تو اس وقت اس کا استعمال کرنا بھی حرام ہوجائےگا۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم نے فرمایا کہ مَنْ اَکَلَ مِنْ ھٰذِہِ الشَّجَرِ یَعْنِی الثُّوْمَ فَلَا یَأْتِیَنَّ الْمَسَاجِدَ (مسلم کتاب المساجد باب نھی من أ کل ثومًا۔۔۔)۔یعنی جو شخص کچے لہسن کا استعمال کرے اسے چاہیے کہ مسجد میں نہ آئے۔ایک دوسری حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے کہ فَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَتَأَذّٰی مِمَّایَتَأَذّٰی مِنْہُ الْاِنْسُ کہ ملائکہ بھی ان چیزوں سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جن سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں (مسلم کتاب المساجد باب نھی من أ کل ثومًا۔۔۔)۔اس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ باوجود اس کے کہ لہسن کھانا جائز ہے پھر بھی مساجد میں آنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن اور پیاز وغیرہ کا کھانا ممنوع قرار دے دیا۔اور ایسے شخص کو نماز باجماعت سے بھی روک دیا۔ورنہ نماز تو کسی صورت میں بھی چھوڑی نہیں جاسکتی وہ اگر مسجد میں نماز نہیں پڑھے گا تو بہر حال اُسے گھر پر نماز پڑھنی پڑے گی۔لیکن اس وجہ سے کہ وہ دوسروں کے لئے دُکھ اور تکلیف کا موجب نہ بنے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص اجتماعی عبادت سے الگ رہے تاکہ مومنوں کو تکلیف نہ ہو۔غرض یہ اسلام کی ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ اس نے نہ صرف حلّت و حرمت کے مسائل بیان کئے بلکہ اس نے یہ بھی بتادیا ہے کہ کھانے کی چیزوں میں سے ادنیٰ درجہ حلال کاہے اور حرام چیزوں میں سے ادنیٰ درجہ کراہت کا ہے پس مومنوں کو حلال اور حرام پر ہی نظر نہیں رکھنی چاہیے بلکہ انہیں تقویٰ کی باریک راہیں اختیار کرتے ہوئے حلال میں سے بھی طیّب چیزوں کو اختیار کرنا چاہیے اور حرام چیزیں تو الگ رہیں مکروہ چیزوں کے پاس پھٹکنے سے بھی احتراز کرنا چاہیے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حلال کی بجائے صرف طیّب کا لفظ رکھا ہے جس کی یہ وجہ ہے کہ یہاں خاص طور پر مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے یعنی اعلیٰ درجہ کے مومنوں کو۔ورنہ اس رکوع کے شروع میں بھی يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا میں اَلنَّاسُ سے مراد مومن ہی تھے کیونکہ کفار کو قرآن کریم مسائل تفصیلی میں حکم نہیں دیتا۔لیکن وہاں اَلنَّاسُسے ادنیٰ درجہ کے مومن مراد تھے جو طبعی خواہشات کی طرف جھکنے والے تھے۔اسی لئے وہاں ان کی