تفسیر کبیر (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 635

تفسیر کبیر (جلد ۳) — Page 112

دوسرؔے معنے اس کے یہ ہیں کہ ان کفار کی مثال جانوروں کی طرح ہے جن کو بلانے والا اپنی طرف بلاتا ہے اور جانور بلانے والے کی آواز سُن کر اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔گو اس کے الفاظ کا مطلب اور مفہوم نہیں سمجھتے اسی طرح یہ لوگ بھیڑ چال کے طور پر ایک دوسرے کی اتباع کرتے ہیں اوریہ کبھی غور نہیں کرتے کہ کہنے والا کیا کہتا ہے اور آیا اس پر عمل کرنا ان کے لئے مفید ہے یا مضر؟ وہ صرف اتنا دیکھتے ہیں کہ ہمارے سردار یا ہمارے لیڈر نے فلاں بات کہی ہے یا ہماری قوم یا برادری ایسا کہتی ہے۔اس کے بعد وہ اپنی عقل و فہم اور تدبّرکے تمام دروازے بند کر لیتے ہیں اور اندھا دھند اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔پس ان کی مثال جانوروں کی سی ہے کہ دوسرے کی بات سن کر یہ لوگ اس پر غور کرنے کے عادی نہیں بلکہ اندھی تقلید کے خوگر ہیں۔گویا ان کے کان بھی ہیں مگر یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ انہیں جس طرف بلایا جا رہا ہے وہ ہلاکت اور بربادی کی جگہ ہے یا امن اور سلامتی کا مقام ہے۔ان کی زبانیں بھی ہیں مگر دلیری سے حق بات کہنے کی جرأت کھو بیٹھی ہیں اور ان کی آنکھیں بھی ہیں مگر سلامتی کی راہ ان کو دکھائی نہیں دیتی۔تیسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ ان کفار کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو چیختا اور چلاتا اور بتوں کو اپنی مدد کے لئے بلاتا ہے اور اس کا بلانا دو طرح ہے ایک دعا کے ذریعہ سے دوسرا نداء کے ذریعہ سے۔نداء ایسی آواز کو کہتے ہیں جو سنی جائے یا نہ سُنی جائے اور دعا اس آواز کو کہتے ہیں جو سنی جائے۔فرماتا ہے وہ ُبت جن کو یہ لوگ اپنی مد دکے لئے پکارتے ہیں۔وہ نہ ان کی دُعا سنتے ہیں نہ نداء۔گویا ان کفار کا کام محض دعا اور نداء ہی ہے ورنہ جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی نہیںسُنتے۔نہ دُعا سنتے ہیں نہ نداء سنتے ہیں۔اس لئے اُن کے بلانے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔اس صورت میں اِلَّا کو زائدہ تسلیم کرنا پڑے گا یا پھر یہ فقرہ اس طرح ہو گا کہ لَا یَسْمَعُ اِلَّا ھُوَ یَدْعُوْا دُعَاءً وَ نِدَاءً۔یعنی وہ بُت تو کچھ نہیں سنتے مگر وہ پکارنے والا برابر دُعائیں کئے چلا جاتا ہے اور آوازیں دیتا چلا جاتا ہے۔ان معنوں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ چیختے چلاتے ہیں تو پھر وہ بُکْمٌ کیسے ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بُکْمٌ کے یہ معنے ہیں کہ وہ حقیقت کا اپنی زبان سے اقرار کرنے کے لحاظ سے گونگے ہیں۔اور اس کی دلیل صُمٌّ اور عُـمْیٌ کے الفاظ ہیں جیسے صُمٌّ سے ایسے لوگ مراد ہیں جن کے کان حق بات کے سُننے سے بہرے ہیں اور عُمْیٌ سے مراد حق کو نہ دیکھنے والے لوگ ہیں اسی طرح بُکْمٌ سے مراد وہ لوگ ہیں جو روحانی نقطہ نگاہ سے گونگے ہیں۔اور جو سچائی کا برملا اظہار کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔اگر یہاں صرف بُکْمٌ کا لفظ ہوتا تو اعتراض درست ہوتا۔لیکن صُمٌّ اور عُمْیٌ کے الفاظ نے صحیح معنے واضح کر دیئے۔ترتیب و ربط۔اس آیت کا آیت ماقبل سے پہلے معنوں کے لحاظ سے یہ تعلق ہے کہ پہلی آیت میں خدا تعالیٰ