تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 76

پردوں اور دروازوں کے پردوں کے بنائے جانے کے متعلق تعلیم ہے۔باب ۲۷ میں سوختنی قربانی کا مَذْبَح اور اس کے اسباب۔مسکن کے صحن۔اس کے پردوں اور ستونوں اور چراغ کے تیل کی بابت احکام دیئے گئے ہیں۔باب ۲۸ میں ہارون علیہ ا لسلام اور اُس کے بیٹوں کو کہا نت کے لئے مخصوص کئے جانے۔پاک لباس بنانے کا حکم دیئے جانے۔افود۔عدل کی چپراس۔اور یَم و تمیم کے متعلق احکام اور پگڑیوں اور منقّش کُرتوں اور ہارون علیہ ا لسلام کے بیٹوں کے لباس کے متعلق احکام دیئے گئے ہیں۔باب ۲۹ میں کاہن کے مقدّس کرنے کے متعلق قربانی کی رسوم۔دائیم سو ختنی قربانی کی رسوم۔اور خدا کا بنی اسرائیل کے درمیان رہنے کا وعدہ بیان کیا گیا ہے۔باب ۳۰ میںبخُورکے مَذبح خانوں کے فدیہ۔برنجی حوض۔مساحت کے مقدّس تیل اور بخور کے بنانے کی ترکیبیں بیان کی گئی ہیں اور باب ۳۱ میں کچھ اور ہدائتیں دینے کے بعد ان کے ساتھ دو لوحیں سپرد کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔اتنے بابوں کی تعلیم کو پادری ویری صاحب کس طرح بھول گئے۔بارہ بابوں میں ان احکام کا ذکر ہے جو طُور پر حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو دیئے گئے اور اُن میں سے صرف نصف میں ( دس احکام) اور لوحوں کا ذکر ہے۔مگر باوجود اِس کے پادری صاحب کہتے ہیں کہ وہاں لوحوں کے سوا کچھ نہیں مِلااور قرآن کریم کا یہ کہنا کہ وہاں لوحوں کے سوا کچھ اور بھی ملا تھا قرآن کریم کی ناواقفیت کا ثبوت ہے۔الکتاب کے معنی باقی رہا پادری صاحب کا یہ کہنا کہ قرآن کریم کے نزدیک ساری تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام کو طور پر دی گئی تھی یہ دعویٰ بلا دلیل ہے۔اَلْکِتَاب کے معنی ساری کتاب کے نہیں بلکہ الکتاب کے معنے کچھ حصہ کتاب کے بھی ہوتے ہیں چنانچہ قرآنِ کریم میں ایک معمولی خط کا نام بھی کتاب رکھا گیا ہے۔سورۂ نمل میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔حضرت سلیمان علیہ ا لسلام نے سبا کی ملکہ کو ایک خط لکھا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ ا لسلام نے اپنے پیغامبر کو ایک خط لکھ کر دیا اور کہا۔اِذْهَبْ بِّكِتٰبِيْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا يَرْجِعُوْنَ۔قَالَتْ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّيْۤ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ۔اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔اَلَّا تَعْلُوْا عَلَيَّ وَ اْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ۔(النّمل :۲۹تا۳۲) یعنی توُیہ میری کتاب لے جا اور سبا کے لوگوں کے سامنے اسے پیش کر دے۔پھر پیچھے ہٹ کے کھڑا ہو جائیو اور دیکھیو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔جب پیغامبر نے اس کے مطابق عمل کیا اور وہ خط سبا والوں کے سامنے پیش کر دیا تو سبا کی ملکہ نے کہا اے میرے سردارو میرے سامنے ایک معزّز کتاب پیش کی گئی ہے وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور اس کا مضمون یہ ہے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔مجھ پر ظلم نہ کرو۔اور فرمانبردار بن کر میرے پاس آ جاؤ۔یہاں کتاب صرف