تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 69
(دیکھو جیوئش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ Circumcisionبحوالہ آر چِوْفورانتھر ARCHIVFUR ANTHERصفحہ۱۲۳ ) اور یہ زمانہ حضرت یوسف علیہ ا لسلام اور ان کے خاندان کی مصر میں ہجرت کے بعد کا ہے۔غرض چونکہ اس حوالہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مصر میں ختنے کا قدیمی ثبوت حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام سے صرف دو سو سال قبل ملتا ہے ہم آسانی سے یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ چونکہ حضرت یوسف علیہ ا لسلام کو مصر کے بادشاہوں کا خاص قُرب حاصل ہو گیا تھا ان کی تعلیم کے ماتحت مصر کے بادشاہوں اور ان کے گِردوپیش کے اُمراء میں ختنہ کا رواج شروع ہو گیا تھا چنانچہ مصری علوم کے محقّقین کی عام رائے بھی یہی ہے کہ مصر میں ختنے کا رواج زیادہ تر بادشاہوں اور پادریوں میں تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مصری ثابت کرنے کی چوتھی دلیل کا ردّ کہ آپ کے مذہب میں بعث بعد الموت کا ذکر نہیں اس لئے آپ مصری ہیں حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے مصری ہونے کے حق میں چوتھی دلیل یہ دی گئی ہے کہ عمون ہوتپ کے مذہب میں بعث بعد الموت کا کوئی ذکر نہیں۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے مذہب میں بھی بعث بعد الموت کا کوئی ذکر نہیں۔اس دلیل میں دو بڑی خامیاں ہیں۔اوّل خامی تو یہ ہے کہ عمون ہوتپ کا سارا مذہب معلوم نہیں۔اس نے کوئی کتاب نہیں چھوڑی۔اگر چھوڑی ہے تو وہ موجود نہیں اور نہ اُس نے کوئی جماعت چھوڑی ہے پھر یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ عمون ہوتپ کے مذہب میں اس تعلیم کا ذکر نہیں۔جب عمون ہوتپ نے کوئی کتاب نہیں چھوڑی تو کیونکر معلوم ہوا کہ اس کی تعلیم میں بعث بعد الموت کا کوئی ذکر نہیں تھا۔کتاب نہ چھوڑی ہوتی جماعت ہی چھوڑی ہوتی تو ہم اس جماعت کے اقوال سے اِس کا اندازہ لگا سکتے مگر ایسی کوئی جماعت بھی عمون ہوتپ نے نہیں چھوڑی۔پس یہ کہنا کہ اس کی تعلیم میں یہ بات نہ تھی ایک غیر معقول بات ہے۔دوسرے ان لوگوں نے یہ بھی ثابت نہیںکیا کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کی تعلیم میں بعث بعد الموت کا ذکر نہیں پایا جاتا۔واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کی تعلیم میں یہ ذکر پایا جاتا ہے اسی طرح اُن کے تابع نبیوں کی تعلیم میں بھی یہ ذکر پایا جاتا ہے۔چنانچہ ذیل میں دو حوالے حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام اور حضرت داؤد علیہ ا لسلام کے درج کئے جاتے ہیں۔تورات میں لکھا ہے اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام سے کہا۔’’ اور اس پہاڑ پر جس پر توُ جاتا ہے مر جا اور اپنے لوگوں میں شامل ہو جیسے تیرا بھائی ہارون حوُر کے پہاڑ پر مر گیا اور اپنے لوگوں میں جا ملا۔‘‘ ( استثنا باب ۳۲۔آیت ۵۰)