تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 68

سے اچھے نہیں تھے اور جو کبھی مصر نہیں گئے اُن میں بھی ختنہ کی رسم پائی جاتی ہے اور اُن کی روایات کے مطابق بھی حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کے ذریعہ سے یہ رسم اُن میں قائم ہوئی۔بائبل کے متعلق تو یہ جدید محقق کہہ سکتے ہیں کہ موسیٰ ؑ نے اُن کو ختنہ کی تعلیم دی کیونکہ وہ مصری تھے اور جب ختنہ کی تعلیم ان میں آ گئی تب بنی اسرائیل نے اس تعلیم کو اپنے دادا حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام کی طرف بھی منسوب کر دیا۔مگر یہ لوگ عرب کے متعلق کیا کہیں گے۔عربوں کو تو نہ اسرئیلیوں کی تاریخ سے کوئی دلچسپی تھی نہ موسیٰ علیہ ا لسلام سے ان کو کوئی ہمدردی تھی بلکہ وہ تو اسماعیل علیہ السلام کے سوتیلے بھائی اسحاق علیہ ا لسلام کی وجہ سے اسرائیلیوں سے عناد رکھتے تھے اور اسرائیلی اُن سے خار کھاتے تھے۔اُن میں بھی اس رسم کا ہونا اور اُن کا بھی اس رسم کا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہماا لسلام کی طرف منسوب کرنا صاف بتاتا ہے کہ ختنہ کی رسم حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام کی معرفت چلی۔اور حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو مصری قرار دینے والے محقّق در حقیقت ایک خطرناک غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں۔عربوں میں ختنہ کا رواج مدّت سے چلا آتا ہے۔چنانچہ اس کی شہادت ’’ فلاس ٹارگی اس ‘‘ بھی دیتا ہے جو مسیح سے ۳۴۲ سال پہلے گزراہے ( دیکھو جیوئش انسا ئیکلو پیڈیا زیر لفظ Circumcision in ethnography) مگر سب سے بڑی شہادت خود عربوں کی قومی شہادت ہے خواہ وہ مسلم تھے یا غیر مسلم۔علاوہ ازیں جیوئش انسائیکلو پیڈیا والا لکھتا ہے کہ ختنے کی رسم علاوہ یہودیوں اور مسلمانوں کے اور قوموں میں بھی پائی جاتی تھی اور پائی جاتی ہے چنانچہ ایبے سینین عیسائی بھی ختنہ کراتے ہیں۔افریقہ کے وحشی قبائل میں تو یہ رسم اتنی وسیع ہے کہ جیوئش انسائیکلوپیڈیا کے بیان کے مطابق اُن قبائل کا نام لینا آسان ہے جو ختنہ نہیں کراتے بہ نسبت اُن قبائل کے جو ختنہ کراتے ہیں۔اسی طرح آسٹریلیا کے پُرانے قبائل بھی ختنہ کراتے تھے جن کاکو ئی تعلق مصر سے ثابت نہیں ہو سکتا۔( دیکھو ٹرائبزآف سنٹرل آسٹریلیا مصنّفہ سپنسر اینڈگلن صفحہ ۳۲۳) امریکہ میں بھی کیا شمالی اور کیا جنوبی اور کیا وسطی یہ رسم پائی جاتی تھی ( جیوئش انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ Circumcision) اِن حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف مصریوں میں اس رسم کا پایا جانا غلط خیال ہے اگر باوجود مصر سے تعلق نہ رکھنے کے افریقہ کے اکثر قبائل میں۔آسٹریلیا کے قبائل میں۔شمالی جنوبی اور وسطی امریکہ کے قبائل میں اور عربوں میں یہ طریقہ رائج تھا تو اس بات کے ماننے میں کیا مشکل ہے کہ اسرائیلی بھی ختنہ کرایا کرتے تھے۔حق یہ ہے کہ مصر میں ختنے کا پرانے سے پرانا ثبوت ایک مصری بادشاہ کی ممیّ سے جس کا نام ایمن این ہب AMEN-EN-HEBتھا ملتا ہے۔اس بادشاہ کا زمانہ ۱۶۱۴ قبل مسیح سے ۱۵۵۵ قبل مسیح تک تھا۔