تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 67
تو خدائی الہام کی وجہ سے ہے اور اگر خدائی الہام کو تسلیم کیا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ توحید تمام انبیاء کی تعلیم کا جزو اعظم رہا ہے۔خدا تعالیٰ اپنے وجود کو ظاہر کرنے کے لئے ’’ عمون ہوتپ‘‘ کے پیدا ہونے کا انتظار نہیں کر سکتا تھا۔ہم دیکھتے ہیں قرآن کریم مکّہ کے رہنے والوں کے سامنے متواتر یہ بات پیش کرتا ہے کہ تمہارا داد ا ابراہیمؑ موحّد تھا اور حضرت ابراہیمؑ یقیناً حضرت موسیٰ ؑ سے پہلے کے آدمی ہیں۔مکّہ کے لوگ خود مشرک تھے لیکن ان کو اس بات کی تردید کی جرأت کبھی نہ ہوئی اور ایک قول بھی کسی تاریخ میں ایسا نہیں ملتا کہ مکّہ کے لوگوں نے آگے سے جھوٹے طور پر بھی کہا ہو کہ ابراہیمؑ مشرک تھا۔پس یہ ایک تاریخی شہادت اِس بات کی ہے کہ قریش جو اسرائیلیوں سے دُور بستے تھے اور اپنے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام کی نسل سے قرار دیتے تھے وہ بھی حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام کو ایک خدا کے ماننے والا قرار دیتے تھے۔موسیٰ علیہ ا لسلام نے اگر توحید ’’عمون ہوتپ‘‘ سے سیکھی تھی تو مکّہ کے ان اَنْ پڑھ لوگوں نے توحید کا علم کس سے حاصل کیا۔کیا یہ بھی مصر سے سیکھ کر آئے تھے۔وہ تو خود مشرک تھے ان کا تو فائدہ اس میں تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام کو مشرک قرار دیتے مگر باوجود اِس کے انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام کے موحّد ہونے کا کبھی انکار نہیں کیا۔پس یہ کہنا کہ ’’ عمون ہوتپ‘‘ سے توحید شروع ہوئی ہے بالکل درست نہیں۔دنیا کی مختلف تاریخیں ایک خدا کا خیال قدیم زمانہ سے پیش کرتی چلی آئی ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے الہام نے دنیا کے ہر گوشہ میں توحید کے خیال کو زندہ اور قائم رکھا ہے۔شرک سے توحید پیدا نہیں ہوئی بلکہ توحید کے بعد کمزوری اور ضعف کے دنوں میں شرک کے خیالات پیدا ہوئے ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ختنہ کی رسم جاری کرنا ان کو مصری ثابت نہیں کرتا تیسری دلیل یہ دی گئی ہے کہ ختنہ مصریوں میں رائج تھا اور حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے بھی اس کی تعلیم دی۔پس معلوم ہوا کہ وہ مصری تھے۔اِس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ استدلال غلط ہے کہ ختنہ کی رسم کے جاری کرنے کی وجہ سے موسیٰ مصری ثابت ہوتے ہیں کیونکہ فرض کرو ختنہ مصر ہی میں رائج تھا تو کیوں یہ تسلیم نہ کیا جائے کہ بنی سرائیل نے مصر کی رہائش کے دنوں میں مصریوں کے اثر کے ماتحت ختنہ کرنا شروع کر دیا۔دوسرے یہ بات بھی غلط ہے کہ ختنہ مصریوں میں ہی رائج تھا۔بائبل کہتی ہے کہ ختنہ حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام نے حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام سے کئی سو سال پہلے خدا تعالیٰ کے حکم سے کروایا اور اپنی اولاد کے لئے ختنہ کرانا ضروری قرار دیا اور نہ صرف خود اپنا ختنہ کرایا بلکہ حضرت اسماعیل علیہ ا لسلام اور حضرت اسحاق ؑ کا بھی ختنہ کرایا۔اس بات کا ثبوت کہ بائبل کا یہ بیان درست ہے یہ ہے کہ عرب جن کے سوشل تعلقات اسرائیلیوں