تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 66

ہوئی ہے اور باقی دنیا نے اُس کی نقل کی ہے اور یہ خیال بالبداہت باطل ہے۔دنیا کے مختلف گوشوں میں مختلف افراد اپنے گردوپیش کے حالات پر غور کر کے کچھ نتائج نکالتے رہے ہیں اور مختلف ممالک کے سینکڑوں آدمیوں کے خیالات میں توارد ہوتا رہا ہے اصولی خیال ایک رہا ہے۔ماحول کے ماتحت کچھ کچھ تبدیلیاں مختلف مُلکوں میں ہوتی رہی ہیں۔توحید کا سوال تو ایک ایسا سوال ہے جس کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک مُلک کے لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوا تھا۔ہم تو دیکھتے ہیں سائنس کے جزوی مسائل کے بارہ میں بھی ایک ایک وقت میں کئی ممالک کے سائنسدانوں نے آزادانہ طور پر تحقیقات کر کے ایک قسم کے نتائج معلوم کئے ہیں اور کسی نے نہیں کہا کہ انہوں نے ایک دوسرے کی چوری کی ہے بلکہ دنیا نے تسلیم کیا ہے کہ یہ توارد ہوا ہے۔بے تار برقی کے متعلق ہی ایک وقت میں مارکونی کے علاوہ اور سائنسدان بھی توجہ کر رہے تھے اور وہ اپنے طور پر اس بارہ میں کئی حقائق کو معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔پس یہ خیال کرنا بالکل درست نہیں کہ چونکہ مصریوں میں توحید کا خیال پایا جاتا تھا اس لئے یہ خیال کسی اور قوم میں نہیں ہو سکتا تھا اور چونکہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام مصری توحید کو پھیلاتے تھے اس لئے وہ مصری تھے۔ایک لحظہ کے لئے فرض کر لو کہ یہ اصول بھی درست ہے تو پھر بھی اِس سے یہ نتیجہ کیونکر نکلا کہ موسیٰ ؑ مصری تھے۔کیا قانونِ قدرت کا یہ بھی کوئی قاعدہ ہے کہ مصری خیال کو مصری ہی پھیلا سکتا ہے کوئی اسرائیلی نہ اُس خیال کو تسلیم کر سکتا ہے اور نہ اس کو پھیلا سکتا ہے۔اگر یہ درست بھی ہے کہ توحید صرف مصر میں ہی پائی جاتی تھی تو کیا اس بات کا تسلیم کرنا ناممکن ہے کہ اسرائیلی نسل کے ایک شخص موسیٰ کو یہ خیال بھایا اور اُس نے یہ خیال اپنی قوم میں پھیلا دیا۔میرے یہ جو ابات اس مسئلہ پر صرف علمی تنقید کا رنگ رکھتے ہیں ورنہ حق یہ ہے کہ نہ تو حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے توحید کا خیال ایجاد کیا اور نہ اسلام یہ کہتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے اس خیال کو ایجاد کیا۔تمام مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ انبیاء اپنے خیالات نہیں پھیلاتے بلکہ خدا تعالیٰ کی وحی کو پھیلاتے ہیں اور اس بات پر متفق ہیں کہ توحید کا خیال ابتدائے عالم سے دنیا میں خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام کیا گیا ہے۔اگر خدا ایک ہے اور اگر وہ شروع سے الہام کرتا چلا آیا ہے تو یہ سیدھی سادی بات ہے کہ وہ اپنے نبی کو یہی کہے گا کہ میں ایک ہوں۔یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک خدا پہلے نبیوں سے تو یہ کہتا رہے کہ میں دو ہوں یا تین ہوں یا چار ہوں لیکن ’’ عمون ہو تپ‘‘ کو آ کر یہ کہے کہ میں ایک ہوں۔یہ سارا دھوکا الہام اور اس کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔مذہب کی تو بنیاد ہی الہام پر ہے۔اگر الہام نہیں تو مذہب صرف ایک ڈھکوسلا رہ جاتا ہے۔پھر موسیٰ ؑ اسرائیلی ہوں مصری ہوں یا کچھ ہوں اُن کی ذات بالکل بے حقیقت رہ جاتی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کی عظمت اور شان