تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 65

دوسرے یہ خیال کرنا بعید از قیاس ہے کہ سالہا سال ایک بچہ کاکوئی نام ہی نہ رکھا گیا ہو۔اگر ہم عربی زبان پر غور کریں تو اس سے بھی موسیٰ ؑکے نام کی تصدیق ہوتی ہے۔کیونکہ عربی زبان کے رو سے موسیٰ ؑکے لفظ کے معنے کٹے ہوئے کے ہوں گے اور اس نام کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ گویا وہ اپنے خاندان سے کٹ کر فرعونیوں میں پالا گیا۔اگر عبرانی تلفّظ کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے جو ’’موشے‘‘ ہے دیکھا جائے تو ’’ موشٰی‘‘ کے معنے عربی زبان میں نکالے ہوئے کے ہیں چنانچہ عربی میں کہتے ہیں اَوْشَی الشَّیْ ءَ۔اِسْتَخْرَجَہٗ۔اَوْشٰی کا اسم فاعل بنے گا۔مُوْشِی (نکالنے والا) اور اسم مفعول بنے گا مُوْشٰی ( یعنی نکالا ہوا ) پس مُوشٰی کے معنے بنیں گے نکالا ہوا۔اور یہ معنی بائبل کے اس فقرہ سے بالکل ملتے ہیں جو کہا گیا کہ ’’ اِس سبب سے کہ مَیں نے اسے پانی سے نکالا‘‘ پس میرے نزدیک درحقیقت موسیٰ مُوشٰی تھا جس کا عبرانی تلفّظ’’ موشے‘‘ ہے اور اس کے لفظی معنے صرف نکالے ہوئے کے ہیں۔سب سے آخر میں مَیں یہ کہنا چاہتا ہوںکہ ایک طرف تویہ جدید محقّق اس بات کو ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں کہ نہ بنی اسرائیل مصر میں گئے اور نہ مصر سے واپس آئے اور دوسری طرف یہ کہہ رہے ہیں کہ بنی اسرائیل مصر میں گئے اور ان کے سردار حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام خود مصری تھے اور ان کا مذہب بھی مصری ہے۔اس تضاد سے ہی انسان سمجھ سکتا ہے کہ ان محققین کی باتوں کی بنیاد کتنی کمزور ہے۔حق یہ ہے کہ ان لوگوں نے بعض اچھی تحقیقاتیں کی ہیں لیکن اس شوق نے ان کو خراب کیا ہے کہ ہر تحقیق کے نتیجہ کو اُس مسئلہ تک محدود رکھنے کی بجائے اس کو سب مسائل پر حاوی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس طرح وہ ٹھوکرکھا گئے ہیں۔اُن کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص آبخورا بنائے اور ساری دنیا کی پیدائش کا دعویٰ کرنے لگ جائے۔آبخورا بنانا خود ایک اچھا کام ہے مگر آبخور ے کے بنانے سے کوئی شخص دنیا کا خالق نہیں بن سکتا۔اگر یہ لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوتے تو یقیناً اُن کے کام کی دنیا میں بہت زیادہ قدر کی جاتی۔اس دلیل کا ردّ کہ توحید کا خیال مصری ہے اور حضرت موسیٰ کا توحید کے خیالات پھیلانا ان کے مصری ہونے کی دلیل ہے دوسری دلیل یہ بیان کی گئی ہے کہ توحید کا خیال مصری ہے چونکہ یہ خیال حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام نے اسرائیلیوں میں پھیلایا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ موسیٰ علیہ ا لسلام مصری تھے۔اس کے مندرجہ ذیل جواب ہیں۔اوّل یہ خیال کر لینا کہ کوئی عقلی خیال محض کسی ایک قوم میں نشوونما پاتا ہے عقل کے بالکل خلاف ہے۔اگر ہم اس خیال کو درست تسلیم کر لیں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ دنیا کی تمام علمی ترقی صرف چار یا پانچ اشخاص کے دماغوں میں