تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 63
گیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کی والدہ کو یہ کہا گیا تھا کہ اُنہیں ایک صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈالا جائے) ہم اس کو تیری طرف واپس لائیں گے اور اس کو اپنا رسول بنائیں گے۔پھر اُس کو آلِ فرعون نے دریا کے پاس سے اُٹھا لیا تاکہ وہ اُن کا دشمن ہو اور غم کا موجب ہو۔فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر یقیناً خطا کار تھے اور فرعون کے خاندان کی ایک عورت نے فرعون سے کہا یہ میرے لئے اور تیرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہو گا اِس کو مارو نہیں ممکن ہے یہ ہمیں نفع دے ( اچھا غلام ثابت ہو) یا ( اگر بہت ذہین نکلے ) تو ہم اسے بیٹا بنا لیں اور وہ حقیقت کو جانتے نہیں تھے۔ان حوالوں سے ثابت ہے کہ قرآنِ کریم اور بائبل کے رو سے فرعون کے گھر کی ایک عورت نے جو بائبل کے بیان کے مطابق فرعون کی بیٹی تھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اُٹھایا اور پالا۔اور بائبل صاف کہتی ہے کہ اس فرعون کی بیٹی نے ہی موسیٰ علیہ ا لسلام کا نام رکھا تھا اور اگر ایسا ہوا ہو تو فرعون کی بیٹی نے آخر اپنا مصری نام ہی رکھا ہو گا۔پس مصری نام کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کو مصری قرار دینا بالکل خلافِ عقل ہے۔پنجاب میں اس قسم کی کم از کم دومثالیں پائی جاتی ہیں۔دو مشہور انگریزوں نے دو ہندوستانی لڑکے پا لے اور ان کے انگریزی نام رکھے اور وہ لڑکے انہی انگریزی ناموں سے اب تک مشہور ہیں۔ان میں سے ایک واربرٹن خاندان کی طرف منسوب ہے اور دوسرا ہندوستانی نوجوان ڈاکٹر مارٹن کے خاندان کی طرف منسوب تھا جس خاندان کا ایک فرد ابی سینیا میں وزیر کے عہدہ پر بھی متمکن رہا ہے۔وہ افراد جن کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں خالص ہندوستانی الاصل ہیں مگر چونکہ انگریزوں نے ان کو پالا تھا اور انگریزوں نے ہی اُن کا اپنی طرز پر نام رکھا اس لئے وہ انگریزی ناموں سے ہی مشہور ہیں۔علاوہ ازیں میرے نزدیک اس امر کا بھی کوئی کافی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ موسیٰ واقعہ میں مصری نام ہے اور نہ اس امر کا کوئی کافی ثبوت پیش کیا گیا ہے کہ موسیٰ عبرانی نام نہیں ہے۔جو لوگ موسیٰ کو مصری نام قرار دیتے ہیں وہ بعض مصری ناموں سے استدلال کر تے ہیں کہ اُن کا ایک حصّہ موسیٰ کے نام پر مشتمل ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ محققینِ زبان کا اِس میں اختلاف ہے بلکہ ایک بھی محقق ایسا نہیں جو اس لفظ کا تلفظ جسے موسیٰ قرار دیا گیا ہے موسیٰ بتاتا ہو بلکہ کوئی اسے ’’ مَوْسِے‘‘ پڑھتا ہے اور کوئی اسے ’’ مَیس‘‘ اور کوئی ‘‘میسو‘‘ بتاتا ہے جس کے معنے بچے کے ہیں اور یہ نام کبھی اکیلا ہوتا ہے اور کبھی کسی اور نام کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاتا ہے چنانچہ مصری شاہی خاندان کے مندرجہ ذیل ناموں کا یہ حصّہ ہے۔تھاٹ میس(THOTMS)۔آہ میس(AHEMS)۔رامیسو(RAMESSU) اب یہ ظاہر ہے کہ موسیٰ ؑ کے تلفّظ اور اِس تلفّظ میں بہت بڑا فرق ہے۔اوّلؔ موسیٰ ؑ میں حروفِ علّت میں سے واؤ