تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 62
حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام مصری زبان میں ہونا ان کے مصری قوم میں سے ہونے پر دلالت نہیں کرتا پس فرض کرو یہ مصری نام ہے تو بھی اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام مصری تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے بچپن کے واقعات میں ایک ایسی کڑی موجود ہے جو ان کے نام کے مصری ہونے کے امکان کو ثابت کرتی ہے تو پھر اس نام سے ان کی مصری قومیّت کا نتیجہ نکالنا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔غرض مصری نام کی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام کے مصری ہونے کا استدلال نہایت ہی کمزور ہے اور اس استدلال سے زیادہ بودا اور کمزور استدلال کم ہی ہو سکتا ہے۔بائبل کا بیان اس واقعہ کے متعلق مندرجہ ذیل ہے۔بنو لاوی میں سے ایک مرد نے اپنے قبیلہ کی عورت سے شادی کی’’ وہ عورت حاملہ ہوئی اور بیٹا جنی اور اس نے اسے خوبصورت دیکھ کر تین مہینے تک چھپا رکھا اور جب آگے کو چھپا نہ سکی تو اُس نے سرکنڈوں کا ایک ٹوکرا بنایا اور اُس پر لا سااور رال لگایا اور لڑکے کو اُس میں رکھا اور اُس نے اسے دریا کے کنارے پر جھاؤ میں رکھ دیا اور اس کی بہن دُور سے کھڑی دیکھتی تھی کہ کیا ہوتا ہے اس کے ساتھ۔تب فرعون کی بیٹی غسل کرنے کو دریا پر اُتری اور اُس کی سہیلیاں دریا کے کنارے پر پھرنے لگیں اس نے جھاؤ میں ٹوکرا دیکھ کر اپنی سہیلی کو بھیجا کہ اُسے اُٹھالے۔جب اُس نے اُسے کھولا تو لڑکے کو دیکھا اور دیکھا کہ وہ روتا ہے اُسے اُس پر رحم آیا اور بولی یہ کسی عبرانی کا لڑکا ہے تب اس (یعنی موسیٰ ) کی بہن نے فرعون کی بیٹی کو کہاکہئے تو میں جاکے عبرانی عورتوں میں سے ایک دائی تجھ پاس لے آؤں تاکہ وہ تیرے لئے اس لڑکے کو دودھ پلائے۔فرعون کی بیٹی نے اسے کہا کہ جا، وہ چھوکری گئی اور لڑکے کی ماں کو بلایا۔فرعون کی بیٹی نے اسے کہا کہ اس لڑکے کو لے اور میرے لئے دودھ پلا۔مَیں تجھے دوماہہ دُوںگی۔اُس عورت نے لڑکے کو لیا اور دودھ پلایا۔جب لڑکا بڑھا وہ اسے فرعون کی بیٹی پاس لائی اور وہ اس کا بیٹا ٹھہرا۔اس نے اس کا نام موسیٰ رکھا اور کہا اس سبب سے کہ میں نے اسے پانی سے نکالا۔‘‘ (خروج باب۲ آیت ۲ تا ۱۰) قرآن کریم میں اس واقعہ کا ذکر اس طرح فرمایا گیا ہے۔وَ اَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى اَنْ اَرْضِعِيْهِ١ۚ فَاِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَاَلْقِيْهِ فِي الْيَمِّ وَ لَا تَخَافِيْ وَ لَا تَحْزَنِيْ١ۚ اِنَّا رَآدُّوْهُ اِلَيْكِ وَ جَاعِلُوْهُ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ۔فَالْتَقَطَهٗۤ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُوْنَ لَهُمْ عَدُوًّا وَّ حَزَنًا١ؕ اِنَّ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ وَ جُنُوْدَهُمَا كَانُوْا خٰطِـِٕيْنَ۔وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّيْ وَ لَكَ١ؕ لَا تَقْتُلُوْهُ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ يَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا وَّ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔(القصص:۸تا۱۰) یعنی موسیٰ ؑکی پیدائش پر ہم نے موسیٰ ؑ کی والدہ کو وحی کی کہ اس کو دودھ پلا۔پھر جب تجھے ڈر ہو کہ بچے کی پیدائش کا راز فاش ہو جائے گا تو تُو اس کو دریا میں ڈال دیجیئو اور ڈریو نہیں اور نہ ہی غم کیجیئو(سورۂ طٰہٰ ع۲ میں دریا میں ڈالنے کے متعلق یہ بیان کیا