تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 61
اقوام کے اثر سے متأثر ہونا چاہیے تھا۔ہم ہندوستان میں دیکھتے ہیں کہ تھوڑے سے انگریز ہیں۔ہزار میں سے ایک بھی انگریزآبادی کے لحاظ سے نہیں لیکن باوجود اس کے ہندوستان میں ہزاروں آدمی جیمز(JAMES) جونز(JONES) اور ٹامس( THAMAS) وغیرہ ناموں سے اپنے خیال میں اپنی عزت افزائی کر رہے ہیں اُن کے رنگ کوئلوں کی طرح کالے ہیں نسلاً وہ چوہڑوں چماروں میں سے ہیں۔زبان انگریزی جاننا تو الگ رہا۔بعض اُن میں سے ایسے ہیں کہ لفظ عیسائی یا انگریز بھی نہیںبول سکتے۔عیسائی کو’’ ہسائی‘‘ کہتے اور انگریزکو ’’ گریج‘‘ کہتے ہیں مگر پھر بھی ٹامس، جونز اور اس قسم کے اور نام انہوں نے رکھے ہوئے ہوتے ہیں کیا ان ناموں کو دیکھ کر کوئی مؤرّخ یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجانب سمجھا جائے گا کہ وہ انگریزی نسل کے آدمی ہیں۔آخر انسانی استدلال کی کوئی نہ کوئی قیمت چاہیے۔ایک مؤرّخ کو رائے قائم کرنے سے پہلے ہر قسم کے حالات کو سوچ کر رائے قائم کرنی چاہیے۔مَیں حیران ہوں یہ یوروپین مؤرّخ آخر کس بناء پر ایسی جلدی نتائج نکالنے کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔وہ موسیٰ ؑ اور اُن کے چند ساتھیوںکے ناموں پر حیران ہیں۔وہ ہندوستان میں آئیں ہم ان کو ہزاروں کالے کلوٹے نسلاً چوہڑے اور چمار زبان انگریزی سے نابلد ٹامس( THAMAS)جیمز اور جونز دکھا دیتے ہیں۔اسی طرح عورتوں کا حال ہے سینکڑوں عورتیں ایسی ہیں جو عیسائی تو نہیں لیکن کسی کان ونٹ(CONVENT)میں پڑھنے کی وجہ سے انہوں نے اپنے نام یا اپنے بچوںکے نام انگریزی طرز پر رکھ لئے ہیں اور بعض جگہ پر ایک ایک انگریزی نام ہے اور ایک ایک اسلامی یا ہندو انہ نام اور وہ اپنے دوستوں اور عزیزوں میں اسی انگریزی نام سے مشہور ہوتی ہیں کوئی ثریاّ ہے اور وہ اپنی ہمجولیوں میں ڈالی (DOLLY)کہلاتی ہے کوئی رام کول ہے اور وہ اپنی سہیلیوں میں جین (JANE) کہلاتی ہے کیا اس سے ہم یہ نتیجہ نکال لیں کہ وہ انگریز ہیں پھر ان سینکڑوں اور ہزاروں مثالوں کو دیکھ کر کیوں نہ یہ نتیجہ نکالا جائے کہ اگر موسیٰ ایک مصری نام ہی ہے تو موسیٰ علیہ ا لسلام کے والدین نے یا جس نے بھی یہ نام رکھا اس نے مصری اثر کے نیچے اس بچے کو ایک مصری نام دے دیا اور جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بائبل اور قرآن کریم کے رو سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی پیدائش پر فرعون کی سختی سے بچانے کے لئے ان کی والدہ نے خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ایک ٹوکرے میں ڈال کر دریا میں پھینک دیا تھا اور اُن کو مصری شاہی خاندان کی ایک عورت نے وہاں سے اُٹھایا اور پالا تو اس میں کونسے تعجب کی بات ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کا نام مصری تھا۔آخر جو بچّہ دریا کے کنارے پڑ اہوا پایا گیا تھا۔اس کا نام کسی کو معلوم نہیں ہو سکتا تھا اگر اسے اُٹھانے والوں نے اس کا نام اپنی زبان میں رکھا تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔