تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 555

کرتے۔پس آپ کے اِس فعل نے ثابت کر دیا کہ آپ کو ان سے کوئی ضِد نہیں تھی۔ہاں یہود کے فعل نے یہ ثابت کر دیا کہ اُن کو ضِد تھی۔کیونکہ انہوں نے تبدیل قبلہ کے متعلق اپنی کتب میں واضح پیشگوئیاں دیکھنے کے باوجود اس کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔غرض دو۲ وجوہ سے آپؐ پر اعتراض نہیں پڑ سکتا۔اول اس وجہ سے کہ آپؐ نے سالہا سال تک بیت المقدس کی طرف منہ کیا۔پس آپؐ کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ آپؐ میں ضِد پائی جاتی تھی۔دوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کی طرف منہ کیا تو یہ الہام الہٰی کے ماتحت کیا تھا لیکن یہود نے محض ضِد کی وجہ سے اس کا انکار کیا نہ کہ الہام الہٰی کی وجہ سے اس لئے آپؐ کے فعل کو ان کے فعل سے کوئی نسبت ہی نہیں ہو سکتی۔وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ۔اب اللہ تعالیٰ اُن کی ضِد کو اور زیادہ واضح کرنے کے لئے فرماتا ہے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کے قبلہ کی بھی پیروی نہیں کرتے۔دراصل یہودیوں اور عیسائیوں کے قبلہ میں بھی فرق ہے یہود کا قبلہ تو یروشلم تھا۔جیسا کہ نمبر ۱ سلاطین باب ۸ آیت۲۲ تا ۳۰ اور دانیال باب۶ آیت۱۰ سے ظاہر ہے لیکن یہود کا سامری فرقہ یروشلم کے ایک پہاڑ کی طرف اپنا منہ کیا کرتا تھا جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے۔حضرت مسیح ؑنے ایک سامری عورت سے کہا کہ ’’میری بات کا یقین رکھ کہ وہ گھڑی آتی ہے کہ جس میں تم نہ تو اس پہاڑ پر اور نہ یروشلم میں باپ کی پرستش کرو گے۔‘‘ (یوحنا باب ۴ آیت ۲۱) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ میں کم از کم دو۲ فریق تھے ایک وہ جو یروشلم کے پہاڑ کی طرف منہ کرتے تھے اور دوسرے وہ جو یروشلم کی طرف منہ کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں عیسائی مشرق کی طرف اور یہود بیت المقدس کی طرف منہ کرتے تھے۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ جب نجران کے عیسائیوں کا وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو دورانِ بحث میں اُن کی عبادت کا وقت آگیا۔اس پر انہوں نے مسجد نبویؐ میں ہی مشرق کی طرف منہ کیا اور اپنے طریق کے مطابق عبادت کرلی۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ فَاسْتَقْبَلُوا الْمَشْرِقَ فَصَلُّوْا صَلٰوتَھُمْ (شرح زرقانی الفصل العاشر فی ذکر من وفد علیہ۔۔۔الوفد الرابع )یعنی انہوں نے مسجد میں ہی مشرق کی طرف منہ کیا اور اپنی عبادت بجا لائے۔یہ روایت بتاتی ہے کہ اس زمانہ میں عیسائی مشرق کی طرف منہ کیا کرتے تھے۔مشرق کی طرف منہ کرنے کی وجہ بقول پادری اکبر مسیح یہ تھی کہ چونکہ مشرق میں خداوند مسیح کا ستارہ دیکھا گیا تھا اور خداوند کی پیدائش و حیات و وفات و قیامت سب ارض مقدس میں ہوئیں اس لئے مشرق اور اس ملک کی طرف منہ پھیرنا ان کو محبوب رہا(سلکِ مروارید حصہ اوّل صفحہ ۴۵ ) اس