تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 553
نے یہ کہنا شروع کر دیا قَدِ اشْتَاقَ الرَّجُلُ اِلٰی بَلَدِہٖ وَبَیْتِ اَبِیْہِ (بہیقی جلد ۲ باب تحویل قبلہ)یعنی یہ شخص پھر اپنے وطن اور اپنے باپ دادا کے گھر کا مشتاق ہو گیا ہے۔ابن کثیر نے یہ الفاظ درج کئے ہیں کہ قَدِ اشْتَاقَ الرَّجُلُ اِلٰی بَیْتِ اَبِیْہِ وَ دِیْنِ قَوْمِہٖ۔(تفسیرابن کثیر زیر آیت ھذا)یعنی یہ شخص اپنے باپ دادا کے گھر اور اپنی قوم کے دین کا مشتاق ہو گیا ہے۔اس روایت سے بھی پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا بیت المقدس کی طرف سے منہ پھیرنا یہودیوں پر سخت گراں گذرا تھا۔اور وہ بڑے زور سے یہ اعتراض کرتے تھے کہ ان مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ کبھی اس قبلہ کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اور کبھی اُس قبلہ کی طرف اور اسی طعنہ زنی کے شوق میں انہوں نے وہ روایت وضع کر لی جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔بہر حال اس روایت سے صاف طور پر پتہ لگتا ہے کہ سَيَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِيْ كَانُوْا عَلَيْهَا والی آیات قبلہ کے بدلنے کے حکم اور یہود کے اعتراض کے بعد نازل نہیں ہوئیں بلکہ پہلے نازل ہوئی تھیں۔چنانچہ بعد میں تحویلِ قبلہ کا حکم نازل ہونے پر یہود نے بھی اعتراضات کئے اور بعض مسلمانوں کے قدم بھی لڑکھڑا گئے اور وہ مرتد ہو گئے۔یہ مضمون عام تفاسیر کے خلاف ہے لیکن اوپر کی روایت سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ سَيَقُوْلُ السُّفَهَآءُ والی آیات پہلے اعتراضات کے جواب میں نہیں بلکہ ان اعتراضات کے ردّ میں تھیں جو بعد میں لوگوں نے کرنے تھے اور جن کی قبل از وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئی کر دی گئی تھی۔وَ لَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا اور جن لوگوں کو (تم سے پہلے) کتاب دی گئی ہے اگر تو اُن کے پاس ہر ایک (طرح کا) نشان (بھی) لے آئے قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ (تو بھی) وہ تیرے قبلہ کی پیروی نہ کریں گےاور نہ تو اُن کے قبلہ کی پیروی کر سکتا ہے اور نہ اُن میں سے قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ کوئی (فریق) دوسرے (فریق) کے قبلہ کی پیروی کرے گا اور (اے مخاطب) اگر اس کے بعد بھی کہ تیرے پاس