تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 544
ان لوگوں کے سامنے جو اذان کی آواز سن کر بھی مسجد میں نہیں آتے کون سے پتھر پڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ وہ گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔یا انہیں کونسی نابینائی لاحق ہوتی ہے کہ وہ مسجدوں میں نماز کے لئے نہیں آتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک اندھے شخص کو بھی جو ٹھوکریں کھا کھا کر گِرتا تھا اس بات کی اجازت نہیں دی تھی کہ وہ گھر پر نماز پڑ ھ لے مگر آجکل لوگ معمولی معمولی عذرات کی بنا پر باجماعت نماز کو ترک کر دیتے ہیں اور اس طرح اپنے عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ انہیں روحانی نابینائی لاحق ہے غرض فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَــرَامِ کہہ کر اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ امامت کے متعلق احکام صرف ایک شخص کو دینے کا فی ہیں۔کیونکہ باقی سارے مسلمان اس کے ساتھ باجماعت نماز پڑھیں گے اور اس طرح وہ سار ے کے سارے نماز میں شامل ہو جائیں گے۔اگر کوئی کہے کہ پھر دوسری جگہ جمع کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں دنیا بھر کے امام مخاطب ہیں جو ممکن ہے دس لاکھ یا دس کروڑ ہوں اور ان کی متابعت میں تمام مسلمانوں پر وہ حکم حاوی ہے۔وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ۔فرماتا ہے وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ہے وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ تحویل قبلہ کا حکم اللہ تعالیٰ کی اُن پیشگوئیوں کے مطابق ہے جو اُن کی کتب میں پائی جاتی ہیں۔مگر اس جگہ اہل کتاب سے صرف یہود کے مخصوص علماء مراد ہیں۔جو اپنی کتب کی پیشگوئیوں سے واقف تھے ورنہ اگر تمام اہل کتاب اس بات پر یقین رکھتے تو وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کیوں نہ لاتے۔ان کا ایمان نہ لانا بتاتا ہے کہ وہ دل سے آپ کی صداقت کے قائل نہیں تھے اور نہ آپؐ کو پرانی پیشگوئیوں کا مصداق تصور کرتے تھے۔پس اس جگہ اَلَّذِیْنَ اُوْ تُوا الْـکِتٰبَ سے مراد صرف یہود کے وہ علماء ہیں جو اپنی کتب سے گہری واقفیت رکھتے تھے اور چونکہ قوم اپنے لیڈروں کے تابع ہوتی ہے اس لئے جب کسی قوم کے لیڈر کوئی بات سمجھ لیں تو محاورۂ زبان میں یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ قوم اس بات کو سمجھتی ہے۔اسی رنگ میں یہاں بھی اہل کتاب سے ان کے مخصوص علماء اور لیڈر مراد ہیں۔جو انبیاء بنی اسرائیل کی پیشگوئیوں سے واقف تھے اور جانتے تھے کہ اب شریعت بھی بدلنے والی ہے اور قبلہ بھی تبدیل ہونے والا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسیحیوں کی دست بُرد کی وجہ سے موجودہ بائیبل میں حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے متعلق اور مکہ مکرمہ کے متعلق پیشگوئیاں وضاحت سے نہیں مل سکتیں مگر پھر بھی ان سے کچھ نہ کچھ نشان ضرور مل جاتے ہیں چنانچہ اس بارہ میں سب سے بڑی پیشگوئی وہ ہے جو استثنا باب ۳۳ آیت ۱ تا۳ میں پائی جاتی ہے۔اور جس کے الفاظ یہ ہیں کہ۔’’یہ وہ برکت ہے جو موسیٰ مرد خدا نے اپنے مرنے سے آگے بنی اسرائیل کو بخشی۔اور اس نے