تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 536
کرتے تو کفار آپ کے متعلق یہ اعتراض نہ کرتے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) آہستہ آہستہ مکہ والوں کے دین میں ہی شامل ہو جائے گا۔ان کا یہ اعتراض اسی صورت میں درست ہو سکتا ہے جبکہ آپ بیت اللہ کی طرف نہیں بلکہ بیت المقدس کی طرف منہ کرتے ہوں۔علاوہ ازیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا یہ تبدیلی فی الواقعہ کسی ذاتی فائدہ کے لئے تھی؟ معترضین کہتے ہیں کہ یہ تبدیلی اس غرض کے ماتحت کی گئی تھی کہ پہلے آپ نے یہودیوں کو اور بعد میں مکہ والوں کو خوش کرنا چاہا۔لیکن قرآن کریم بتاتا ہے کہ یہ تبدیلی لوگوں کے لئے ایک بہت بڑا ابتلا تھا مکہ میں مکہ کے لوگوں سے بیت المقدس کی طرف منہ کرانا اور پھر مدینہ میں جہاں یہود و نصارٰی کا زور تھا اور مشرک بھی ان سے متاثر تھے وہاں بیت اللہ کی طرف منہ کرانا کوئی معمولی بات نہ تھی۔اگر معمولی بات ہوتی تو اللہ تعالیٰ یہ کیوں فرماتا کہ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِيْ كُنْتَ عَلَيْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيْهِ۔یعنی ہم نے اس قبلہ کو جس پر تو اس سے پہلے قائم تھا یعنی بیت المقدس کو صرف اس لئے مقرر کیا تھا کہ تاہم اس شخص کو جو اس رسول کی فرمانبرداری کرتا ہے اس شخص کے مقابل پر جوایڑیوں کے بل پھر جاتا ہے ایک ممتاز حیثیت میں ظاہر کردیں۔یہ آیت بتاتی ہے کہ بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم بطور آزمائش تھا اور حقیقت بھی یہی ہے کہ مکہ والوں کی نظر میں کعبہ کو جو فضیلت حاصل تھی حتّٰی کہ قاتل کو بھی اس میں کچھ نہ کہتے تھے اس کو مدِّنظر رکھتے ہوئے سمجھا جا سکتا ہے کہ اُن سے بیت المقدس کی طرف منہ کروانا ایک بہت بڑا ابتلاء تھا۔اسی طرح مدینہ میں جہاں یہود کا زور تھا بیت المقدس کی بجائے کعبہ کی طرف منہ کروانا ایک دوسرا ابتلاء تھا اسی لئے قرآن کریم دونوں دفعہ کی تحویل کو ابتلاء قرار دیتا ہے۔پہلی تحویل کی نسبت کہا ہے وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِيْ كُنْتَ عَلَيْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَيْهِ۔اور دوسری تحویل کی نسبت کہتا ہے۔سَيَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِيْ كَانُوْا عَلَيْهَا۔یعنی سطحی رائے رکھنے والے اور بے وقوف لوگ عنقریب یہ اعتراض کرینگے کہ ان لوگوں کو ایک قبلہ سے دوسرے قبلہ کی طرف کس چیز نے پھرادیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں دفعہ کی تحویل ایک ابتلاء تھی اور لوگوں کو مغزِدین سے واقف کرنا اصل مقصود تھا۔اگر معترضین کا خیال درست ہوتا کہ آپ اس ذریعہ سے مکہ والوں کو خوش کرنا چاہتے تھے تو چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا۔ہم تحویل قبلہ کا حکم دے کر تم پراحسان کرنے والے ہیں تاکہ لوگ خوش ہو جائیں اور اسلام کی طرف ان کا میلان بڑھ جائے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس حکم کے نازل ہونے پر لوگ اعتراض کرینگے۔اور ان کے لئے یہ تبدیلی ٹھوکر کا موجب ہو گی۔گویا قرآن کریم نے تحویل قبلہ کے واقعہ کو ایک ابتلاء اور آزمائش قرار دیا ہے اسی طرح