تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 535

یروشلم مدینہ سے شمال کی طرف تھا اور مکہ جنوب کی طرف تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیاکہ آپ بیت المقدس کی طرف منہ رکھیں۔چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں لکھا ہے۔وَقَدْ جَآءَ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ اَحَادِیْثٌ کَثِیْرَۃٌ وَحَاصِلُ الْاَمْرِ اَنَّہٗ قَدْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُمِرَبِاِسْتِقْبَالِ الصَّخْرَۃِ مِنْ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ فَکَانَ بِمَکَّۃَ یُصَلِّی بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ فَتَکُوْنَ بَیْنَ یَدَ یْہِ الْکَعْبَۃُ وَھُوَ مُسْتَقْبِلُ صَخْرَۃِ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ فَلَمَّا ھَاجَرَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ تَعَذَّ رَ الْجَمْعُ بَیْنَھُمَا فَاَمَرَہُ اللّٰہُ بِالتَّوَ جُّہِ اِلیٰ بَیْتِ الْمُقَدَّسِ (تفسیر ابن کثیر بر حاشیہ فتح البیان زیر آیت ھذا) یعنی تحویل قبلہ کی بحث میں بہت سی احادیث روایت کی گئی ہیں ان سب کو جمع کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا تھا کہ آپ صخرۂ بیت المقدس کی طرف منہ کریں۔چنانچہ آپ مکہ میں نماز پڑھتے ہوئے ایسے طور پر بیت المقدس کی طرف منہ کرتے تھے کہ کعبہ بھی سامنے رہے اور بیت المقدس بھی لیکن جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو یہ طریق جاری نہیں رکھا جا سکتا تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ صرف بیت المقدس کی طرف منہ کر لیا کریں۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ مکہ میں آپ بیت المقدس کو ہی اصل قبلہ سمجھتے تھے۔بے شک آپ ایسے رنگ میں کھڑے ہوتے تھے کہ بیت اللہ بھی سامنے آجاتا تھا مگر وہ ایک ضمنی فائدہ تھا اصل مقصد بیت المقدس کی طرف ہی منہ کرنا تھا لیکن جب آپ مدینہ میں تشریف لے آئے تو جہت تبدیل ہو جانے کی وجہ سے کعبہ اور بیت المقدس دونوں کی طرف آپ کا منہ کرنا ناممکن ہو گیا اور آپ نے صرف بیت المقدس کی طرف منہ کرنا شروع کر دیا۔بہر حال یہ بات صحیح نہیں کہ مدینہ میں آنے کے بعد دوبارہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ ایسا کوئی حکم ثابت نہیں پس مکہ مکرمہ میں اگر بیت المقدس کے ساتھ بیت اللہ کی طرف بھی آپ کا رُخ ہوتا تھا تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ آپ خانہ کعبہ ہی اپنا اصل قبلہ سمجھتے تھے صحیح نہیں۔آپ بیت المقدس کو اپنا قبلہ سمجھتے تھے لیکن کھڑے ایسے رنگ میں ہوتے تھے کہ بیت اللہ بھی آپ کے سامنے آجاتا۔پس جب یہ بات ہی غلط ثابت ہوئی تو دشمن کا اعتراض بھی غلط ہو گیا۔اسی طرح سیل کا یہ اعتراض بھی غلط ہے کہ آپ مکہ میں جدھر چاہتے منہ کر لیا کرتے تھے۔اس اعتراض کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ جب آپ نے کعبہ کی طرف منہ کیا تو اس وقت حدیثوں میں آتا ہے کہ یہود نے تمسخر کرتے ہوئے مشرکوں سے کہا کہ اِشْتَاقَ مُحَمَّدٌ اِلیٰ مَوْلِدِہٖ وَعَنْ قَرِیْبٍ یَرْ جِعُ اِلیٰ دِیْنِکُمْ(بحر محیط زیر آیت ھذا) یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر اپنے وطن کی یاد ستانے لگی ہے اور امید ہے کہ وہ اب جلدہی تمہارے دین کی طرف لوٹ آئیگا۔اس روایت سے صاف طور پر پتہ لگتا ہے کہ پہلے آپ بیت المقدس کی طرف ہی منہ کر کے نمازیں پڑھا کرتے تھے اگر آپ پہلے بھی خانہ کعبہ کی طرف منہ کیا