تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 522 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 522

ہاں بھی کہتے ہیں کہ ’’جس پر تم قائم ہو‘‘ مطلب یہ کہ جس عقیدہ کے تم پابندہو۔پس کَانُوْا عَلَیْھَا کا مطلب یہ ہے کہ جس کے وہ پابند تھے۔تفسیر۔قرآن کریم کا طریق ہے کہ جب وہ کوئی اہم بات بیان کرنا چاہتا ہے تو بجائے اس کے کہ وہ فوری طور پر اس کے متعلق اپنا حکم بیان کر دے تمہید کے طور پر بعض باتوں کا ذکر کر دیتا ہے تاکہ اس چیز کی اہمیت لوگوں پر واضح ہو جائے اور ان کے قلوب پہلے سے ہی الہٰی حکم کو بشاشت کے ساتھ تسلیم کرنے اور اس کے مطابق اپنے اندر تغیر پیدا کرنے کے لئے تیار ہو جائیں اور اُن پر کم سے کم ابتلاء آئے۔کیونکہ قرآن کریم کی غرض لوگوں کو ہدایت دینا اور انہیں شریعت کے ساتھ ساتھ حکمت سکھانا بھی ہے۔پس وہ چاہتا ہے کہ جہاں تک لوگوں کو ٹھوکر کھانے سے بچایا جا سکے انہیں بچا نے کی کوشش کی جائے جیسے روزوں کا حکم دینے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ دنیا میں اور قومیں بھی روزے رکھتی چلی آئی ہیں اور یہ روزے اس لئے مقرر کئے جاتے رہے ہیں تاکہ تقویٰ پیدا ہو۔اس تمہید کے بعد فرمایا کہ تم پر بھی روزے فرض کئے جاتے ہیں۔اسی طرح یہاں بھی تحویل قبلہ کا حکم دینے سے پہلے لوگوں کی طبائع کو اس کے لئے تیار کیا اور آنیوالے انقلاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔سَيَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِيْ كَانُوْا عَلَيْهَا۔یعنی ایسے لوگ جو حکمت سمجھے بغیر اعتراض کر دینے کے عادی ہیں عنقریب ایک اعتراض کرنے والے ہیں اور وہ اعتراض باوجود نہایت لغو ہونے کے دشمن کرتے ہی چلے جائیں گے اور کہیں گے کہ ان مسلمانوں کو اس قبلہ سے جس پر وہ پہلے قائم تھے کس چیز نے دوسری طرف پھرا دیا ہے۔حالانکہ اس وقت تک اس بارہ میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا کہ تم خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھو۔مگر اصل حکم کے نازل کرنے سے پہلے ہی دشمن کا اعتراض بیان کر دیا اور بتا دیا کہ ہم عنقریب تحویل قبلہ کے بارہ میں ایک حکم دینے والے ہیں جس پر بعض لوگ جو کم علم اور کم عقل ہیں یا بات کو سمجھے بغیر بول اٹھنے والے ہیں یہ اعتراض کرینگے کہ مسلمانوں کو اس قبلہ سے جس پر وہ پہلے قائم تھے کس نے پھرا دیا۔مگر تم نے اس اعتراض سے گھبرانا نہیں کیونکہ اب اللہ تعالیٰ قبلہ کے بارہ میں ایک نیا حکم نازل فرما کر تمہارے ایمانوں کی آزمائش کرنے والا ہے۔سَیَقُوْلُ میں س تاکید اور استمرار کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور استمرار میں مستقبل کا زمانہ شامل ہوتا ہے۔اسی رنگ میں سَوْفَ کا لفظ بھی عربی زبان میں استعمال ہوتا ہے اور وہ بھی تاکید کے لئے آتا ہے لیکن سَوْفَ کی نسبت س کا زمانہ زیادہ قریب ہوتا ہے۔بہر حال سَیَقُوْلُ کے الفاظ میں یہ خبر دی گئی کہ عنقریب بعض کم عقل لوگ ایک اعتراض کرنیوالے ہیں اور وہ اعتراض باوجود نہایت لغو ہونے کے دشمن کرتا ہی چلا جائے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے