تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 518

ہماری قوم میں محدود کر دی ہے اس کو ہم کب مان سکتے ہیں اگر کسی اجنبی شے کے متعلق تم یہ بات کہتے تو تحقیق کی ضرورت بھی ہوتی مگر تم تو خدا کے متعلق یہ بات کہتے ہو جو ہمارا بھی ربّ ہے اور تمہارا بھی پھر ہم کس طرح اس بات کو مان لیں کہ بنو اسحاق سے باہر نبی نہیں آسکتا۔اصل سوال تو یہ ہے کہ نبی بھیجا کون کرتا ہے جب اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے تو تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جسے کوئی فطرتِ صحیحہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہو سکتی۔وہ تمہارا بھی ربّ ہے اور ہمارا بھی۔اگر وہ صرف تمہارا ہی ربّ ہوتا تو تم کہہ سکتے تھے کہ وہ ہمارے سوا کسی اور سے تعلق نہیں رکھ سکتا مگر جب وہ ہمارا بھی ربّ ہے اور تمہارا بھی تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ تمہیں تو دے دے اور ہمیں چھوڑ دے۔لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ۔فرماتا ہے کہ دین میں حسد کی بھی کوئی وجہ نہیں کیونکہ کوئی شخص دوسرے کی کمائی نہیں لے سکتا۔ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اللہ تعالیٰ کی جزا کا مستحق ہو گا۔تمہارے اعمال تمہارے کام آئیںگے اور جس قوم میں سے یہ نبی آیا ہے اس کے افراد کے اعمال اس کے کام آئیں گے جو شخص جس قدر کوشش کرے گا اسی قدر انعام پائے گا۔کوئی قومی رعایت نہیں ہو گی۔وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَ اور ہم تو اسی سے اخلاص کا تعلق رکھتے ہیں اس میں بتایا کہ ہماری محبت ایسی نہیں کہ اگر وہ کچھ دے تو ہم اس پر ایمان لائیں۔بلکہ ہمارا تو یہ حال ہے کہ خواہ وہ ہمیں کچھ دے یا نہ دے تب بھی ہم اسی کے لئے وقف ہیں اور اسی کے اطاعت گزار رہیں گے۔اس کے سوا ہمیں کوئی اور چیز مطلوب نہیں۔اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ (اے اہل کتاب!) کیا تم (یہ) کہتے ہو کہ ابراہیم ؑ اور اسمٰعیل ؑ اور اسحق ؑ اوریعقوبؑ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اور (اس کی) اولاد یہودی یا مسیحی تھے؟ تو (ان سے ) کہہ کہ کیا تم زیادہ جانتے ہو اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ یا اللہ (تعالیٰ) ؟ اور اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اس شہادت کو جو اُس کےپاس اللہ (تعالیٰ) کی