تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 517 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 517

برطانوی نمائندہ نے امریکہ سے بذریعہ تار بھجوائے اور انگلستان کو۲۸ سو ہوائی جہاز پہنچ گئے۔وہ کہنے لگے اس کرّہ سے تو کوئی ایسی بات نہیں بتائی جا سکتی۔میں نے کہا تو پھر ماننا پڑے گا کہ اس کُرّے کا اور اسی طرح اور ہزاروں لاکھوں کُرّوں کا خدا کوئی اور ہے کیونکہ میں اپنے ذاتی تجربہ سے جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام انسان پر نازل ہوتا ہے جو کئی قسم کی غیب کی خبروں پر مشتمل ہوتا ہے پس آپ بے شک اس مرکز کو ہی خدا مان لیں۔لیکن ہم تو ایک علیم اور خبیر ہستی کو خدا کہتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ اس کے اندر قدرت بھی ہوتی ہے اس کے اندر جلال بھی ہوتا ہے۔اس کے اندر جمال بھی ہوتا ہے۔اس کے اندر علم بھی ہوتا ہے۔اس کے اندر حکمت بھی ہوتی ہے۔اس کے اندر بسط کی صفت بھی ہوتی ہے۔اس کے اندر مُحی ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے۔اس کے اندر مُمیت ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے۔اس کے اندر حلیم ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے۔اس کے اندر مُہیمن ہونے کی صفت بھی ہوتی ہے غرض بیسیوں قسم کی صفات اس کے اندر پائی جاتی ہیں اسی طرح اس کا نور ہونا۔اس کا وہاب ہونا۔اس کا شکور ہونا۔اس کا غفور ہونا۔اس کا رحیم ہونا۔اس کا ودود ہونا۔اس کا کریم ہونا۔اس کا ستار ہونا اور اسی طرح اور کئی صفات کا اس کے اندر پایا جانا ہم تسلیم کرتے ہیں جب ایک طرف یہ صفات اس مرکز میں نہیں پائی جاتیں اور دوسری طرف ہم پر ایک ایسی ہستی کی طرف سے الہام نازل ہوتا ہے جو اپنی صفات کو اپنے کلام کے ذریعہ دُنیا پر ظاہر کرتا ہے اور باوجود اس کے کہ ساری دنیا مخالفت کرتی ہے پھر بھی اس کا کلام پورا ہو جاتا ہے تو اس ذاتی مشاہدہ کے بعد ہم آپ کی تھیوری کو کس طرح تسلیم کر سکتے ہیں۔اس پروہ کہنے لگے کہ اگر یہ باتیں درست ہیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ یہ تھیوری باطل ہے کیونکہ اس کلام کے ہوتے ہوئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی ایسا خدا نہیں جس کے تابع یہ تمام مرکز ہو۔غرض صِبْغَۃَ اللّٰہِ میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے اور اس کے رنگ میں رنگین ہونے کی نصیحت کی گئی ہے جو انسانی پیدائش کا حقیقی مقصد ہے اور جس پر بنی نوع انسان کی نجات اور اللہ تعالیٰ کا قرب منحصر ہے۔قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِي اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ تو (اُن سے) کہہ۔کیا تم ہم سے اللہ کے متعلق جھگڑتے ہو؟ حالانکہ وہ ہمارا بھی ربّ ہے اور تمہارا بھی ربّ ہے اور ہمارے اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ۰۰۱۴۰ اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے۔اور ہم تو اس سے اخلاص (کا تعلق ) رکھتے ہیں۔تفسیر۔اس آیت میں کیا ہی لطیف دلیل دی ہے۔فرماتا ہے کہ تمہارا یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ نے ہدایت صرف