تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 502
’’اُس وقت کہ ہمارے باپ یعقوب نے اس دنیا کہ چھوڑا اُس نے اپنے بارہ بیٹوں کو اکٹھا کیا اور اُن سے کہا۔اپنے باپ اسحٰق کی بات کو سُنو۔کیا تمہارے دلوں میں قدّوس خدا کے متعلق کوئی شبہ ہے ؟ انہوں نے کہا سُن اے اسرائیل ہمارے باپ جس طرح تیرے دل میں کوئی شبہ نہیں اسی طرح ہمارے دل میں بھی نہیں۔کیونکہ وہ آقا ہمارا خدا ہے اور وہ ایک ہے۔‘‘ (MIDS RABBAH ON GENESIS PAGE98۔DEUT PARA 2 ترجمۃ القرآن راڈویل زیر آیت ھٰذا) پس حضرت یعقوب علیہ السلام کا اپنے بیٹوں کو جمع کرنا اور انہیں نصیحت کرنا اور پھر ان کا اقرار کرنا ثابت ہے گو اس کی ساری تفصیل نہیں۔اور یہی فرق ہے جو قرآن کریم کی عظمت کو دوبالا کرتا ہے۔قرآن کریم۱۹۰۰ سال کے بعد نازل ہو کر صحیح تفصیل بیان کر دیتا ہے مگر بائیبل اپنے زمانہ کی بھی صحیح تفصیل نہیں بتاتی۔تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ یہ وہ جماعت ہے جو (اپنا زمانہ پورا کر کے) فوت ہو چکی ہے۔جو کچھ اس نے کمایا (اُس کا نفع نقصان) اس کے لئے ہے اور جو کچھ تم نے کمایا وَ لَا تُسْـَٔلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۰۰۱۳۵ (اُس کا نفع نقصان)تمہارے لئے ہےاور جو کچھ وہ کرتے تھے اُس کے متعلق تم سے (کچھ) نہیں پوچھا جائے گا۔حَلّ لُغات۔خَلَا کے معنے گذر جانے کے ہوتے ہیں(مفرداتِ راغب) چنانچہ خَلَا الزَّ مَانُ کے معنے ہیں مَضٰی یعنی زمانہ گذر گیا۔آگے محاورہ میں اِس کے معنے مَاتَ کے بھی آتے ہیں۔خَلَتْ: مَاتَتْ۔اِنْقَضَتْ وَسَارَتْ اِلَی الْخَلَاءِ وَھُوَ الْاَرْضُ الَّتِیْ لَا اَنِیْسَ فِیْھَا۔(لسان) یعنی خَلَتْ کے معنے ہیں مر گیا اور ایسی زمین میں چلا گیا جہاں اُس کا کوئی انیس اور غم خوار نہیں۔تفسیر۔عام طور پر لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا کے اعمال ہمارے کام آجائیں گے اگر وہ نیک اور پارسا تھے تو ہم بھی اُن کی اولاد ہونے کی وجہ سے انہی کے ساتھ جگہ پائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس خیال کی تردید فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ اُن کے اعمال اُن کے ساتھ ہیںاور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ۔تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تمہارے باپ دادا کیسے اعمال کرتے تھے۔بلکہ یہ سوال ہو گا کہ تم کیا کرتے رہے۔اگر یہ سوال ہونا ہوتا کہ تمہارے باپ دادوں نے کیا کیا تھا تو شاید تم بچ جاتے مگر سوال تو یہ ہو گا کہ تم نے کیا کیاہے۔