تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 501

نام سے وہ مشہور تھا۔پھر سابق مذاہب کے پیروؤں کو اس وجہ سے بھی مسلم کا نام نہیں دیا گیا کہ نام پانے کا مستحق کامل مذہب ہی ہوتا ہے پس جب وہ مذہب بھیجا گیا جو اپنے کامل ہونے کی وجہ سے تمام مذاہب سے افضل تھا تو اس کا نام بھی اسلام رکھ دیا گیا۔تاکہ اس کا نام ہی اس کی غرض وغایت پر روشنی ڈالنے کے لئے کافی ہو۔وہیری ایک عیسائی مفسرہے وہ اعتراض کرتا ہے کہ اس آیت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے دعویٰ کیا ہے کہ پہلے لوگ بھی میرے دین کے تابع تھے چنانچہ نَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ سے وہ استنباط کرتا ہے کہ یعقوبؑ کی اولاد نے کہا کہ ہم محمدؐ پر ایمان لاتے ہیں اور پھر بہت سے دلائل سے اس بات کو ردّ کرتا ہے اور کہتا ہے یہ بالکل غلط ہے۔مگر دراصل وہیری کو دھوکا لگا ہے اسلام یہ نہیں کہتا کہ وہ اُنہی تفاصیل کے پابند تھے جو اسلام میں پائی جاتی ہیں بلکہ صرف یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے اپنے وقت میں سچے دین کے پیرو تھے اور اس سے کوئی سلیم العقل انسان انکار نہیں کر سکتا۔ورنہ نام کے طور پر یہ لفظ صرف امتِ محمدؐ یہ کو ملا ہے اور کسی کو نہیں۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے وصیت کی تھی یا نہیں؟ اور اگر کی تھی تو اس کا کیا ثبوت ہے؟ اس بارہ میں یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے لئے یہ ضروری نہیں کہ ہم اس کا تورات سے ثبوت پیش کریں۔یہ تو عقلی بات ہے کہ ہر راستباز اپنی اولاد کو اس قسم کی نصیحتیں کرتا اور اُن پر عمل کرنے کی تاکید کیا کرتا ہے۔خصوصاً موت کے وقت اپنی اولاد کو وصیت کرنا تو ایک ایسی عام بات ہے جس کا نظارہ ہمیں لاکھوں آدمیوں کی زندگیوں میں نظر آتا ہے اور پھر حضرت یعقوب علیہ السلام کے لئے تو یہ بات اور بھی ضروری تھی کیونکہ وہ حصہ جو ٹھوکر کھا چکا ہو اس کے متعلق والدین کو ہمیشہ فکر ہوتی ہے کہ اُسے نصیحت کی جائے پس یہ ایک فطری بات ہے جس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا لیکن اگر انہوں نے وصیت کی بھی تھی تو سوال یہ ہے کہ کیا بنی اسرائیل نے بائیبل میں یہ وصیت رہنے دینی تھی؟ جن لوگوں کو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام سے اتنا بغض ہے کہ راستہ چھوڑ کر بھی اُن کی عیب جوئی کر لیتے ہیں اگر اُن کا ذکر آجاتا تو انہوں نے اُسے کہاں رہنے دینا تھا مگر باوجود اِس کے کہ اُن کی کُتب انسانی دست بُرد سے محفوظ نہیں۔اس وصیت کے کچھ کچھ نشان ہمیں مل جاتے ہیں اور یہ نشان بھی خود عیسائیوں نے مہیا کیا ہے۔کئی عیسائیوں نے قرآن کریم کے ترجمے کئے ہیں۔اُن میں سے ایک مترجم راڈول بھی تھا۔اُس نے اپنے مترجم قرآن کریم میں اس آیت کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ مدراش ربّاہ میں جو طالمود کا حصّہ ہے پیدائش باب۴۹ آیت۲ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ