تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 500
ہی تھے کیونکہ جو بھی خدااور اس کے نبی پر ایمان لاتا ہے۔وہ مسلم بن جاتا ہے مگر ان میں اور ہم میں یہ فرق ہے کہ اُن کا نام مسلم نہ تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اُمت کے لوگ مسلم نام سے پکارے جاتے ہیں۔پہلی امتوں کے افراد بے شک اطاعت اور فرمانبرداری کے لحاظ سے مسلم تھے مگر لفظ مسلم نام کے طور پر وہ استعمال نہیں کرتے تھے۔اور نہ اس نام سے وہ پکارے جاتے تھے۔لیکن اس اُمت کے لوگ اس نام سے پکارے جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے مذاہب منسوخ ہونے والے تھے لیکن اسلام نے کبھی منسوخ نہیں ہونا تھا۔پس اس کو یہ نام دیا گیا تاکہ گڑبڑ واقع نہ ہو۔اور اُسی مذہب کے پیرو مسلم کہلائیں جس نے قیامت تک قائم رہنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ جب کوئی نام دیتا ہے تو اُس وقت دیتا ہے جب اُس نے ہمیشہ کے لئے قائم رہنا ہو۔جیسے کسی نبی کا پہلے کوئی کلمہ نہیں ہو تا تھا مگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کلمہ بھی دیا گیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں نے بہت سے کلمے بنا لئے ہیں جیسے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ عِیْسٰی رُوْحُ اللّٰہ یا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ اٰدَمُ صَفِیُّ اللّٰہِ یا لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُوْسٰی کَلِیْمُ اللّٰہِ اور پھر اس کے لئے انہوں نے کوئی نہ کوئی روایت بھی گھڑ لی ہے۔مگر درحقیقت حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر بنی اسرائیل کے آخری نبی تک کوئی کلمہ نہ تھا صرف وہی کلمہ ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا ہے۔کیونکہ اگر پہلے خدا تعالیٰ کے نام کے ساتھ کسی نبی کا نام لگایا جاتا اور پھر اُسے ہٹایا جاتا تو یہ بے ادبی ہوتی۔پس صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہی خدا تعالیٰ کے نام کے ساتھ لگایا گیا کیونکہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نے قیامت تک چلنا تھا۔غرض اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ جس چیز نے مٹ جانا ہو اُسے نام نہیں دیا جاتا۔چونکہ اس امت نے قیامت تک رہنا تھا اس لئے اسے مسلم نام دے دیا گیا۔اسی طرح آپ کی تعلیم کو بھی ایک نام دے دیا گیا یعنی قرآن۔پہلی کتابوں مثلاً تورات اور انجیل وغیرہ کا نام خدا تعالیٰ نے نہیں رکھا لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب کا نام قرآن خود خدا نے رکھا ہے۔غرض خدا تعالیٰ خود اپنی طرف سے اُن کو نام دیتا ہے جنہوں نے قائم رہنا ہوتا ہے۔پس معنوی لحاظ سے تو وہ سب لوگ مسلم تھے جو پہلی اُمتوں میں ہوئے مگر جہاں تک مسلم نام کا تعلق ہے خدا تعالیٰ نے یہ نام صرف اس اُمت کو دیا ہے کیونکہ یہ قیامت تک رہنے والی تھی۔انجیل اور تورات لوگوں کے اپنے رکھے ہوئے نام ہیں اور انہی ناموں سے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اُن کا ذکر کیا ہے۔اس بات سے کہ قرآن کریم میں ان کے یہ نام آئے ہیں۔یہ استدلال نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ نے اُن کے یہ نام رکھے تھے۔جیسے قرآن کریم نے زید کا بھی نام لیا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ جب وہ پیدا ہوا تھا تو اس کا نام خدا تعالیٰ نے رکھا تھا وہ تو اس کے ماں باپ نے ہی رکھا تھا مگر خدا تعالیٰ نے بھی وہی نام لیا۔کیونکہ اسی