تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 496
کوئی انسان نہیں جانتا کہ وہ کب آجائے۔اس لئے تمہارا فرض ہے کہ ہمیشہ ربّ العالمین کے فرمانبردار رہو۔اور خدا تعالیٰ کی اطاعت میں اپنی زندگی بسر کرو۔تاکہ جب موت آئے تو وہ تمہیں اطاعت کے سوا اور کسی حالت میں نہ پائے۔دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق بڑھاؤکہ وہ تمہاری تباہی کو برداشت ہی نہ کر ے۔اور اُسوقت تم کو موت دے جبکہ تم کامل مومن بن چکے ہواور اس کی خوشنودی حاصل کر چکے ہو۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان پر قبض اور بسط کی حالت آتی رہتی ہے۔کبھی تو انسان اللہ تعالیٰ کی محبت میں اتنا محو ہو جاتا ہے کہ دنیا جہاں کو بھلا دیتا ہے اور کبھی دوسری چیزوں کی طرف اُسے اتنی توجہ ہوتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں تو منافق ہو گیا آپ نے فرمایا کس طرح؟ اُس نے کہا۔یا رسول اللہ! میں آپ کے پاس آتا ہوں تو میری اور حالت ہوتی ہے اور جب میں گھر جاتا ہو ںتواور حالت ہوجاتی ہے۔آپ نے فرمایا۔یہ کوئی گھبراہٹ والی بات نہیں۔اگر ہر وقت ایک جیسی حالت رہے تو انسان مر جائے (ابن ماجہ ابواب الزھد باب المدوامة علی العمل)۔دراصل قبض اور بسط کے بھی مختلف درجات ہوتے ہیں۔کامل مومن کی جو حالت قبض ہوتی ہے وہ اس سے نچلے درجے والے کےلئے بسط کی حالت ہوتی ہے۔اِسی طرح انبیاء پر بھی قبض و بسط کا دور آتا رہتا ہے مگر نبیوں کی قبض صدیقوں کی بسط ہوتی ہے۔اِسی لئے صوفیاء نے کہا ہے کہ حَسَنَاتُ الْاَبْرَارِ سَیِّئَاتُ الْمُقَرَّ بِیْنَ یعنی نیک لوگوں کی نیکیاں بھی مقربین کی بدیاں ہوتی ہیں۔اس کا یہی مطلب ہے کہ اوسط درجہ کے لوگ جس کو نیکی سمجھتے ہیں وہ اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے نزدیک بعض دفعہ بدی بن جاتی ہے اور اوسط درجہ کے لوگوں کی بدیاں ادنیٰ درجہ کے لوگوں کی نیکیاں ہوتی ہیں۔پس چونکہ یہ دو۲ حالتیں انسان پر آتی رہتی ہیںاور موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں۔اس لئے فرمایا کہ تم خدا تعالیٰ سے ایسا تعلق بڑھاؤ کہ تم پر موت ایسے وقت میں آئے جو تمہارا بہترین وقت ہو اور ملک الموت تمہاری اسوقت جان نکالے جب تمہارا خدا تعالیٰ سے ایک سچا اور مخلصانہ تعلق قائم ہو چکا ہو۔