تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 495 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 495

خدا کی راہ میں لگی ہوئی ہیں۔گویاانہوں نے بتایا کہ میری زندگی اپنے ذاتی مفاد کیلئے نہیں بلکہ ساری دنیا کیلئے وقف ہے۔اور ربُّ العالمین خدا کی مظہریت میں ساری مخلوق کی شفقت میرے پروگرام میں شامل ہے۔اور میں اسے کبھی فراموش نہیں کرونگا۔میں صرف اپنے لئے بھلائی نہیں مانگوںگا بلکہ ساری دنیا کےلئے بھلائی مانگوں گا۔اور ساری دنیا کی بہبودی ہمیشہ اپنے مد نظر رکھو ںگا۔گویا انہوں نے اَسْلِمْکے جواب میں اَسْلَمْتُ کہہ کر ایک تو اس طرف اشارہ کیا کہ میرے تو جسم اور روح کا ذرّہ ذرّہ پہلے ہی حضور کی راہ میں قربان ہے۔حضور مجھ سے جو چاہیں معاملہ کریں اور پھر لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کا اضافہ کر کے عرض کیا کہ میں نے تو اپنے آپ کو صفت ربُّ العالمین کے ماتحت ساری دنیا کیلئے وقف کر دیا ہے۔چنانچہ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کا مقام حاصل ہونے کی وجہ سے ہی انہوں نے یہ دعا مانگی کہ رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ چونکہ اُن کی اپنی بعثت تمام دنیا کی طرف نہیں تھی اِس لئے انہوں نے یہ دعا مانگی کہ الٰہی آئندہ دنیا میں ایک عظیم الشان رسول کھڑا کیجئے اوروہ رسول میری اولاد میں سے ہو تاکہ ساری دنیا کی بھلائی ہو اور ربُّ العالمین کی تمام مخلوق اُس کے فیض سے مستفیض ہو۔وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِيْهِ وَ يَعْقُوْبُ١ؕ يٰبَنِيَّ اِنَّ اللّٰهَ اور ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹوں کو اور( اسی طرح) یعقوب ؑ نے بھی (اپنے بیٹوں کو) اس بات کی تاکید کی (اور کہا کہ) اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّيْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ۰۰۱۳۳ کہ اے میرے بیٹو!اللہ نے یقیناً اس دین کو تمہارے لئے چن لیا ہے۔پس ہرگز نہ مرنامگر اس حالت میں کہ تم (اللہ کے) پورے فرمانبردار ہو۔تفسیر۔فرماتا ہے ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو اور ابراہیم ؑ کے پوتے یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو اِس بات کی تاکید کی تھی کہ تم اپنی خیرخواہی صرف اپنی ذات یا اپنی قوم تک محدود نہ رکھنا بلکہ اُسے وسیع کرتے چلے جانا اور ساری دنیا کو اِس میں شامل کرنا۔اس جگہ دین سے مراد وہی لائحہ عمل ہے جس میں تما م جہان کی بہتری مدّ نظر ہو۔گویا ابراہیم ؑ نے اپنے پڑپوتوں تک کو ہدایت دی کہ اپنے آپ کو صفت ربُّ العالمین کا مظہر بنانا اور دنیا کی کسی قوم کو اپنی خیر خواہی سے محروم نہ رکھنا۔فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ کے دو۲ معنے ہیں۔ایک یہ کہ ہر وقت اسلام پر قائم رہو۔کیونکہ موت کے متعلق