تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 490
نے خدا تعالیٰ کے لئے سب کچھ چھوڑ دیا تھا۔تب تمہارے لئے بھی یہ موقعہ پیدا ہو جائے گا کہ تم خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر لو۔عربی زبان میں یہ ایک بہت بڑی خوبی ہے کہ اس میں صرف عَنْ اور اِلٰی کے فرق سے بعض دفعہ ایک متضادمفہوم پیدا کر دیا جاتا ہے حالانکہ دوسری زبانوں میں اس کے لئے مستقل لفظ تلاش کرنا پڑتا ہے اس جگہ بھی یَرْغَبُ کے ساتھ عَنْ کا صلہ استعمال کر کے اسے اعراض کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے حالانکہ اِلٰی کے صلہ کے ساتھ اس کے معنے محبت اور پیار کے ہیں نہ کہ اعراض کے۔درحقیقت اگر غور سے کام لیا جائے تو متضاد جذبات بھی ایک منبع سے تعلق رکھتے ہیں اور ظاہرمیں اُن کی جو ایک تبدیل شدہ شکل ہوتی ہے وہ حقیقت کا اختلاف نہیں بلکہ کیفیت کا اختلاف ہوتا ہے۔رغبت اور نفرت بھی ایک ہی قسم کے جذبات ہیں۔اسی طرح بہادری اور بزدلی بھی ایک ہی قسم کے جذبات ہیں صرف اُن کی کیفیت بدل جاتی ہے مثلاً رغبت کو ہی لے لو۔جب انسان ایک چیز کی رغبت کرتا اور اس کی طرف جاتا ہے اور دوسری چیز کی طرف سے ہٹتا اور نفر ت کا اظہار کرتا ہے تو اگر ہم گہری چھان بین کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ان دونوں کے پیچھے ایک ہی جذبہ کام کر رہا ہوتا ہے جب انسان ایک چیز کی طرف جاتا ہے تو اس طرف جانے کا موجب بھی محبت ہوتی ہے اور جب کسی چیز کی طرف سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس کا موجب بھی ایک دوسری محبت ہوتی ہے گویا رغبت کا منبع بھی محبت ہے اور بے رغبتی کا منبع بھی محبت ہے۔جب انسان ایک چیز کی طرف جاتا ہے تو وہ اس چیز کی محبت کی وجہ سے جاتا ہے اور جب کسی سے پیچھے ہٹتا ہے تو کسی اور چیز کی محبت کی وجہ سے ہٹتا ہے اسی طرح بہادری اور بُزدلی خواہش حفاظت کے تابع ہوتی ہے۔جب انسان حملہ کرتا ہے تب بھی اس کی غرض جان بچاناہوتی ہے اور جب دشمن سے بھاگتا ہے تب بھی وہ اپنی جان کی حفاظت کے لئے ہی بھاگتا ہے لیکن طریق مختلف ہیں ایک میں دوسرے پر حملہ کر کے اپنے آپ کو بچانا چاہتا ہے اور دوسرے میں اپنے آپ کو ہٹا کر حفاظت کرنا چاہتا ہے۔غرض عَنْ اور اِلٰیکے استعمال میں یہ بتایا جاتا ہے کہ بہت سے جذبات ایک ہی منبع کے تابع ہوتے ہیں صرف کیفیتوں کا اختلاف اور فرق ان میں پایا جاتا ہے۔اِلَّا مَنْ سَفِہَ نَفْسَہٗ: سَفِہَ کے ایک معنے جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے نَسِیَہٗکے ہیں اس لحاظ سے وَمَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّۃِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِہَ نَفْسَہٗ کے یہ معنے ہوں گے کہ اس شخص کے سوا جو اپنے نفس کے فوائد کو کلی طور پر نظر انداز کر دیتا ہے۔ابراہیم ؑ کے دین سے کون اعراض کر سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کا طریق ترک کرنے سے نبیوں کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ہاں انسان کی اپنی جان کو ضرور نقصان پہنچتا ہے۔ایک ظالم بادشاہ کو