تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 486

کا ایک مصرف مساکین ہیں اور مساکین سے وہ لوگ مراد ہیں جو کمائی نہیں کر سکتے اور جو دوسروں پر بوجھ بنے ہوئے ہوتے ہیں۔جب کسی قوم میں ایسے لوگ ہوں تو اُن کو دیکھ کر دوسروں کو بھی سوال کرنے کی عادت ہو جاتی ہے اور اُن کی غیرت مٹ جاتی ہے۔اگر ایک فنڈ ہو جس سے ان کی مدد کی جائے تو قوم میں سوال کرنے کی عادت پیدا نہیں ہوتی۔اسلامی طریق یہی ہے کہ لوگوں کی ضروریات کو جہاں تک ہو سکے خود پورا کیا جائے اور جماعتی نظام ان کا خیال رکھے اور ان کے مانگنے کے بغیر ہی ان کی ضرورت کو پورا کر دیا جائے اور جو لوگ بغیر ضرورت کے مانگیں ان کی سفارش نہ کی جائے اس کے بغیر قوم کا تزکیہ نہیں ہو سکتا۔پھر مسکین خالی وہ شخص نہیں جس کے پاس کچھ نہ ہو بلکہ مسکین وہ بھی ہے جو کوئی پیشہ تو جانتا ہو مگر اس کے پاس اتنا روپیہ نہ ہو کہ وہ ضروری آلات خرید سکے۔ایسے شخص کے متعلق بھی ضروری ہے کہ اس کی مدد کی جائے اور اُسے اپنے فن سے تعلق رکھنے والی ضروری اشیاء اور آلات مہیا کئے جائیں۔اسی طرح جو بیوگان اور یتامیٰ ہیں ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے۔یہ تمام باتیں یُزَکِّیْھِمْ میں شامل ہیں کیونکہ اس طرح قوم کے افراد ترقی کر سکتے ہیں۔پھر تزکیہ سے ظاہری صفائی بھی مراد ہے جیسا کہ حدیثوں میں آتا ہے کہ راستہ میں کوئی گند نہ پھینکا جائے کھڑے پانی میں پیشاب نہ کیا جائے۔سایہ دار جگہوں میں جہاں لوگ آرام کرتے ہیں پاخانہ نہ پھرا جائے۔اسی طرح وضو کرنا، جمعہ کے دن نہانا، بدن اور لباس کی میل دُور کرنا ، ناک کان اور بالوں کی صفائی کرنا اور ناخنوں کے اندر میل جمنے نہ دینا۔یہ تمام امور یُزَکِّیْھِمْ میں شامل ہیں۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کوئی شخص بُودار چیز کھا کر مسجد میں نہ آئے۔(ترمذی ابواب الطہارة۔مسلم کتاب الطہارة باب خروج الخطایا۔بخاری کتاب الجمعة و کتاب الاستیذان و کتاب الاطعمة) کیونکہ اس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے۔پھر قلبی صفائی ہے اس کے متعلق بھی اسلام اعلیٰ درجہ کی تعلیم کا حامل ہے۔اخلاقی تعلیم ہے اس کے متعلق بھی اسلام نے بڑا زور دیا ہے اور کہا ہے کہ غیبت نہ کرو۔چغلی نہ کرو۔حسد نہ کرو۔دوسروں پر ظلم نہ کرو۔تجارتی بد دیانتی نہ کرو۔حساب کتاب صاف رکھو۔لین دین کے معاملات تحریر میں لے آیا کرو۔سود نہ لو۔قرض دو تو لکھ لیا کرو۔قرض لو تو مقررہ وقت کے اندر ادا کرو۔غرض تزکیہ نفوس کے لئے تمام ضروری احکام اور ان کی تفصیلات قرآن کریم نے بیان کر دی ہیں اور اس نے انسانی اعمال اور جذبات اور فکر کا ایسا تزکیہ کیا ہے جس کی مثال کسی اور مذہب میں نظر نہیں آسکتی اور جس سے دُعائے ابراہیمی کے پورا ہونے کا ایک زبردست ثبوت ملتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی کہ اے خدا! تو ان میں ایسا رسول بھیج جو ان کو تیری آیات پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور ان کا تزکیہ کرے۔چنانچہ اللہ