تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 485

رکھتی ہے۔علم تو کہتاہے کہ ایسا کرو یا نہ کرو لیکن دانائی بتاتی ہے کہ فلاں موقعہ پر یوں کرو اور فلاں موقعہ پر یوں۔پس اس کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ وہ مقررہ احکام کی تو حکمت بتا ئےگا اور جو معیّن احکام نہیں بلکہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں ان میں دانائی کی راہ سکھلائےگا اور بتائےگا کہ فلاں جگہ اس طرح کرو اور فلاں جگہ اس طرح۔حکمت کے ایک معنے نبوت کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے اس کے معنے یہ ہیں کہ اس رسول کے ذریعے انہیں نبوت کا مقام حاصل ہو سکے گا۔اس کے ایک معنے وَضْعُ الشَّیْ ئِ فِی مَوْضِعِہٖ کے بھی ہیں مگر یہ معنے دانائی میں ہی آجاتے ہیں اسی طرح اس کے معنے مَا یَمْنَعُ مِنَ الْجَھَالَۃِ کے بھی ہیں۔یعنی ایسی وجوہ جو کسی بُرے کام سے روکنے والی ہوں۔مگر یہ معنے بھی پہلے معنوں میں آجاتے ہیں۔پس اصل میں اس کے چار معنے ہیں(۱)عدل (۲) علم (۳) حلم (۴)نبوت۔وَ يُزَكِّيْهِمْ میں ان معنوں کے لحاظ سے جو حل لغات میں بیان کئے جا چکے ہیں یہ بتایا گیا ہے کہ (۱) وہ ان کی تعداد کو بڑھا ئیگا۔یعنی اس کے کلام میں غیر معمولی تاثیر ہو گی جس کی وجہ سے لوگ اُسے قبول کرتے چلے جائیں گے اور اس کا مذہب دنیا پر غالب آنیوالا مذہب ہو گا۔اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ہے کہ تَزَ وَّجُوْاالْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ۔(ابو داؤد کتاب النکاح باب النھی عن تزویج من لم یلد من النّساء و نسائی کتاب النکاح) کہ بہت بچے جننے والی اور محبت کرنے والی عورتوں سے شادیاں کرو۔کیونکہ میں باقی اُمتوں پر تمہاری کثرت کو پیش کر کے قیامت کے دن فخر کروں گا۔غرض تعداد کا بڑھانا خواہ نسلی لحاظ سے ہو یا تبلیغی لحاظ سے يُزَكِّيْهِمْ میں ہی شامل ہے۔پھر اسلامی تعلیم بنیادی طور پر ایسے امور پر مشتمل ہے جن سے مسلمان دنیوی لحاظ سے بھی غیر معمولی ترقی کر سکتے ہیں۔مثلاً ایک بڑی تعلیم یہ دی گئی ہے کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَ قَۃً تُطَھِّرُ ھُمْ وَتُزَکِّیْھِمْ بِھَا (التّوبة :۱۰۳) یعنی اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تو اپنی اُمت کے لوگوں سے مال لے اور اس کے ذریعہ اُن کو پاک کر اور اُن کو بڑھا یہ قا نون جو اسلام نے قائم فرمایا ہے دنیا کی اور کسی مذہبی کتاب میں نہیں۔صرف اسلام ہی ہے جس نے ایک قومی فنڈ مقرر کیا ہے جس کی غرض یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے غرباء کی طاقت کو بڑھایا جائے۔اور انہیں بھی ترقی کی دوڑ میں اُمراء کے دوش بدوش کھڑا کیا جائے۔یہ مال جن مقامات پر خرچ کیا جاسکتا ہے ان میں سے ایک مُؤَلَّفَۃُ الْقُلُوْبِ ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ روپیہ دیکر دوسروں کو مسلمان بنایا جائے۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ غیرمذاہب میں سے جو لوگ اسلام سے دلچسپی رکھتے ہوں انہیں لٹریچر مہیا کیا جائے اور انہیں حق کی تلاش میں مدد دی جائے۔پھر اس