تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 484
ان کو تقدیر الہٰی کا علم دیگا۔درحقیقت اگر غور سے کام لیا جائے تو تقدیر کا صحیح علم دینے والا صرف قرآن کریم ہی ہے۔باقی سب لوگ یا تو جبرؔ کی طرف چلے گئے ہیں یا قدر کی طرف مائل ہو گئے ہیں۔جس کتاب نے جبروقدر کا صحیح مفہوم بیان کیا ہے وہ صرف قرآن کریم ہی ہے۔افسوس ہے کہ قرآن کریم کے ماننے والوں میں سے بھی بعض قدرؔی اور بعض جبریؔ بن گئے ہیں۔حالانکہ صحیح مذہب ان کے بین بین ہے۔میں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سنا ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے جتنا غور کیا ہے ہمیں یہی معلوم ہوا ہے کہ صرف قدر کے عقیدہ سے بھی امن اُٹھ جاتاہے اور صرف جبر کے عقیدہ سے بھی امن اُٹھ جاتا ہے۔اگر یہ سمجھا جائے کہ صرف قدر ہی قدر ہے اور انسان تارک الدنیا ہو جائے تو وہ نیکیوں میں ترقی نہیں کر سکتا اور اگر جبر کا عقیدہ اختیار کر لیا جائے تو وہ سمجھے گا کہ انسان جو کام بھی کرتا ہے خدا تعالیٰ اس سے کرواتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اسے کسی بدی سے بھی عار نہیں رہے گی کیونکہ وہ اسے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر دےگا۔غرض صحیح عقیدہ ان دونوں کے درمیان ہے اور انسانی اعمال کی مثال ایک ایسے گھوڑے کی سی ہے جو لمبی رسی سے بندھا ہو ا ہو۔وہ یہ خیال کر کے کہ میں آزاد ہوں چلتا پھرتاہے مگر آخر اسے جھٹکا لگتا ہے اور رُک جاتا ہے۔اسی طرح انسان مقیّد بھی ہے اور مختار بھی۔انسان مختار ہے ایک حد کے اندر اور مقیّد ہے ایک حد کے اندر جو قید کونہیں سمجھتا وہ بھی گمراہ ہے اور جو اختیار کو نہیں سمجھتا وہ بھی گمراہ ہے اور یہ علم صرف قرآن کریم سے ہی حاصل ہوتا ہے۔وَ الْحِكْمَةَ:حکمت کے ایک معنے چونکہ عدل کے بھی ہیں۔اس لئے حکمت سکھانے کے ایک معنے یہ بھی ہیں کہ وہ عدل سکھائیگا۔اس کی تعلیم میں ظلم بالکل نہ ہو گا۔اس کے یہ معنے بھی ہیں کہ وہ علم کو کامل کریگا۔یعنی بعض شریعتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف حکم دیتی ہیں علم نہیں دیتیں۔وہ کہتی تو ہیں کہ فلاں کام کرو اور فلاں کام نہ کرو۔مگر اس کی وجہ نہیں بتاتیں۔ان میں صرف امر کا حصہ ہوتا ہے لیکن علم کا حصہ نہیں ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پہلی شریعتوں میں جو احکام دیئے گئے ان کی بھی حکمتیں تھیں مگر وہ حکمتیں بتائی نہیں جاتی تھیں۔مگر قرآن کریم کے متعلق فرمایا کہ وہ ایسی تعلیم ہو گی جس کے ساتھ احکام کی حکمت اور وجہ بھی بتائی جائیگی۔وہ بتائےگا کہ نماز پڑھو۔کیونکہ اس میں یہ حکمت ہے۔یا چوری نہ کرو کیونکہ اس کی یہ وجہ ہے۔وہ صرف یہ نہیں کہے گا کہ جھوٹ نہ بولو اور ظلم نہ کرو بلکہ وہ جھوٹ نہ بولنے اور ظلم نہ کرنے کی وجہ اور حکمت بھی ساتھ بتائے گا۔اور عمل کے ساتھ علم کا حصہ بھی شامل کرے گا۔حکمت کے ایک معنے حلم یعنی دانائی کے بھی ہیں۔یعنی موقعہ اور محل کی شناخت۔یہ چیز علم سے کسی قدر اختلاف