تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 483
اور صرف مسلمان ہی دنیا میں دعویٰ کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا قرآن شروع سے اب تک محفوظ صورت میں لکھا ہوا چلا آرہا ہے۔یہ خصوصیت کسی اور الہامی کتاب کو ہرگز حاصل نہیں۔کیونکہ دوسری کوئی کتاب بھی لکھی ہوئی نہ تھی۔کوئی سینکڑوں سال بعد جمع کی گئی اور کوئی کتاب اگر اس وقت لکھی بھی گئی تو اسے یہ خصوصیت حاصل نہ تھی کہ اس کا لفظ لفظ الہامی ہو۔بائیبل کے متعلق یہ کبھی بحث نہیں ہوئی کہ یہاں زبر ہے یا زیر ہے۔لیکن قرآن کریم کے متعلق یہ بحث ہوتی تھی کہ یہاں زبر ہے یا زیر ہے بلکہ یہاں تک بھی بحث ہوتی تھی کہ یہاں ٹھہرنا ہے یا نہیں ٹھہرنا۔غرض اس میں بتایا کہ وہ رسول ایک ایسی کتاب کی تعلیم دیگا جو بالکل محفوظ ہو گی اور اس کے زمانہ میں ہی لکھی جا چکی ہو گی۔پھر کتاب جمع کرنے والی چیز کو بھی کہتے ہیں۔اس لحاظ سے اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ ایسی تعلیم دے گا جو تمام قسم کے علوم اور تعلیموں پر حاوی ہو گی اور ہر قسم کی اخلاقی‘ تمدنی،مذہبی اور اقتصادی تعلیم کی جامع ہو گی۔کتاب کے ایک معنے چونکہ فرض کے بھی ہیں اس لحاظ سے یُعَلِّمُھُمُ الْکِتَابَ کے یہ معنے بھی ہیں کہ وہ ایسی تعلیم دے گا جس پر عمل کرنا لوگوں کے لئے فرض ہو گا۔گویا وہ تمام ضروری باتیں جن کے بغیر روحانی زندگی تکمیل تک نہیں پہنچ سکتی اس کے ذریعہ لوگوں کو بتادی جائیںگی۔پھر کتاب کے ایک معنے حکم کے بھی ہیں۔اگر حکم کو فرض کا ہم معنے سمجھ لیا جائے تب تو اس کے کوئی علیٰحدہ معنے نہیں ہوں گے۔لیکن اگر حکم کو فرض سے الگ سمجھا جائے تو پھر یہ مراد ہو گی کہ بعض احکام تو فرض ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو حالات کے مطابق بدلتے رہتے ہیں۔جو فرائض قطعی ہوتے ہیں وہ ہر حالت میں قائم رہتے ہیں جیسے نماز ہے۔لیکن بعض حکم ایسے ہوتے ہیں جو حالات کے مطابق بدل جاتے ہیں۔مثلاً اسلامی شریعت یہ کہتی ہے کہ اگر تم سزا میں فائدہ دیکھو تو سزا دو اور اگر معاف کرنے میں فائدہ دیکھو تو معاف کر دو۔پس جو احکام بدلتے نہیں وہ فرائض ہیں اور جو ضرورت کے ماتحت تبدیل ہو جاتے ہیں وہ حکم ہیں۔ایسے احکام کو حکم اس لئے قرار دیا جاتا ہے کہ یہ لفظ حکمت سے نکلا ہے اور انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ تم خود سوچ لو کہ ایسے وقت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے۔فرض کی صورت میں تو اس نے کسی اور پر بات نہیں چھوڑی لیکن احکام میں اس نے رعایت دیدی ہے مثلاً فرض نمازوں کی اس نے خود ہی رکعات مقرر کر دی ہیں جن کو انسان گھٹا بڑھا نہیں سکتا لیکن نوافل اس نے انسان کی مرضی پر رکھ دیئے کہ جتنی توفیق ہو پڑھ لو۔اس فرض کو ملحوظ رکھتے ہوئے زیرِ تفسیر آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ وہ ایسی کتاب ہو گی جو تمام احکام کی جامع ہو گی۔خواہ وہ لازمی ہوں یا اختیاری۔پھر کتاب کے ایک معنے قضاء آسمانی کے بھی ہیں۔اس لحاظ سے وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ کے یہ معنے ہوںگے کہ وہ