تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 482
ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نازل ہو گا۔کچھ آیات اُتریں گی اور وہ سنادے گا پھر اور اُتریں گی اور وہ سنا دے گا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس کلام کے نزول کی کیفیت بھی بتا دی گئی تھی اور سمجھا دیا گیا تھا کہ وہ اکٹھا نہیں اُترے گا۔بلکہ آہستہ آہستہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اُترے گا قرآن کریم کے آہستہ آہستہ نازل ہونے میں حکمت یہ تھی کہ اگر اکٹھی تمام شریعت نازل ہو جاتی تو انسان گھبرا جاتا اور کہتا کہ میں اس پر کس طرح عمل کروں۔مگر جب ایک ایک ٹکڑا نازل ہوا تو لوگوں کے لئے عمل کرنا آسان ہو گیا اور بتدریج وہ ترقی کرتے چلے گئے۔غرض یَتْلُوْاعَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ میں قرآن کریم کے نزول کی کیفیت بتائی گئی ہے اور اس میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ وہ کلام ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نازل ہو گا۔آیت کے ایک معنے علامت کے بھی ہوتے ہیں اس لحاظ سے يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ کے معنے یہ ہوںگے کہ وہ تیری علامات لوگوں کو بتائے۔اس میں یہ اشارہ مخفی تھا کہ وہ ایسا کلام پیش کرے گا جس سے خدا تعالیٰ کا وجود نظر آجائے گا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَاتُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ(الانعام:۱۰۴)یعنی آنکھیں اس تک نہیں پہنچ سکتیں مگر وہ اپنے کلام کے ذریعہ بینائیوں تک پہنچ جاتا ہے۔پس اس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ وہ ایسی علامتیں لوگوں کو بتائےگا جن سے خدا تعالیٰ کا وجود پہچانا جائےگا۔اور ایسے دلائل پیش کریگا جن سے انہیں خدا تعالیٰ نظر آجائےگا۔یہ دلائل آگے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک عقلی اور دوسرے اعجازی۔پس یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ میں بتایا کہ وہ ان عقلی امور کی طرف بھی لوگوں کی راہنمائی کریگا جو خدا تعالیٰ کی معرفت عطا کرتے ہیں اور ان معجزات اور نشانات کو بھی پیش کرےگا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوتے ہیں۔آیت کے ایک معنے چونکہ عذاب کے بھی ہوتے ہیں اس لئے یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ سے یہ استنباط بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے خلاف عذاب کی خبریں دےگا۔پھر آیت کے ایک معنے چونکہ اونچی عمارت کے بھی ہیں اس لئے یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ کایہ مطلب بھی ہے کہ اس کی تعلیم میں تدریجی ارتقاء ہو گا۔جیسے عمارت پر عمارت بنتی ہے اور وہ اپنے اندر مومنوں کے لئے بھاری ترقیات کے سامان رکھتی ہو گی۔يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ اس کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ وہ انہیں ایسی تعلیم دے گا جو ساری کی ساری لکھی ہوئی ہو گی۔کیونکہ عربی زبان میں ہر اس چیز کو کتاب کہا جاتا ہے جس میں مختلف مسائل کا ابواب وار اندراج ہو۔اس لحاظ سے صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وفات پر صحابہؓ کو لکھی ہوئی ملی۔