تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 477
یہ بات انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ اپنے محبوب کی بات پوری کرنے کے لئے اپنا سارا زور صرف کر دیتا ہے۔انبیاء کو چونکہ خدا تعالیٰ سے گہرا تعلق ہوتا ہے اس لئے اس کی بات کو پورا کرنے کے لئے وہ ہرقسم کی جدو جہد سے کام لیتے ہیں تاکہ اس کا نشان ظاہر ہو۔پس اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک پیشگوئی کو پورا کرنے کے لئے دعا کی تو یہ کوئی قابلِ اعتراض امر نہیں بلکہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ سے انتہائی اور کامل عشق تھا قطع نظر اس بات کے کہ خدا تعالیٰ قادرِ مطلق ہے اور و ہ اسے خود پورا کر سکتا ہے انہوں نے خدا تعالیٰ سے اپنی کامل محبت کا ثبوت دیدیا۔اور اُسی وقت دعا کی۔کہ اے ہمارے رب! ان میں ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرما۔تنوین تحقیر کے لئے بھی آتی ہے اور تعظیم کے لئے بھی۔یہاں تعظیم کے لئے آئی ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرما۔میرے نزدیک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا بتاتی ہے کہ گو وہ جانتے تھے کہ ان کی اولاد میں بہت سے رسول آنے والے ہیں۔مگر وہ چاہتے تھے کہ آخری رسول جو دُنیا کا نجات دہندہ بن کر آنے والا ہے وہ بنو اسحاق سے نہ ہو بلکہ بنو اسمٰعیل میں سے ہو۔کیونکہ اس وقت تک بنواسحاق کو کافی حصّہ مل چکا ہو گا مسیحی مصنّفین دعائے ابراہیمی کے اس حصہ پر بالعموم یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ بائیبل میں اس امر کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد کی نسبت بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کوئی وعدہ کیا گیا تھا دوسرے اگر یہ ثابت بھی ہو جائے کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولادکی نسبت کوئی وعدہ تھا تو اس امر کا کیا ثبوت ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسمٰعیل ؑ کی اولاد میں سے تھے؟ سو یاد رکھنا چاہیے کہ بائیبل کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسمٰعیل ؑ اور آپ کی نسل سے بنو اسحٰق کو شدید نفرت تھی اور اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ان کی دادی حضرت سارہؓ کو ہاجرہؓ اور اسمٰعیل سے نفرت تھی جس کا اثر آئندہ نسل میں بھی منتقل ہونا بعید از قیاس امر نہیں۔اسی وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ ہاجرہؓ اور اسمٰعیل ؑ کو ایک دُور دراز مقام پر چھوڑ آنے پر مجبور ہوئے۔بائیبل کہتی ہے کہ : ’’سارہ نے دیکھا کہ ہاجرہ مصری کا بیٹا جو اس کے ابرہام سے ہوا تھا ٹھٹھے مارتا ہے تب اس نے ابراہام سے کہا کہ اس لونڈی کو اور اس کے بیٹے کو نکال دے۔کیونکہ اس لونڈی کا بیٹا میرے بیٹے اضحاق کے ساتھ وارث نہ ہو گا۔‘‘ (پیدائش باب۲۱ آیت۹،۱۰) حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پہلے تو یہ بات ناگوار گذری مگر آخر خدا تعالیٰ نے انہیںکہا کہ: ’’تجھے اس لڑکے اور اپنی لونڈی کے باعث بُرا نہ لگے جو کچھ سارہ تجھ سے کہتی ہے تو اس کی