تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 468
نقل میں کرتے ہیں۔لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کسی کی نقل میں قربانی نہیں کی۔بلکہ اِدھر خدا نے حکم دیا اور اُدھر وہ قربانی کے لئے تیار ہو گئے۔یہی وہ لوگ ہیں جو دُنیا کے ستون ہوتے ہیں اور جن کا بابرکت وجود مصائب کے لئے تعویذکا کام دے رہا ہوتا ہے۔وہ قربانیاں بھی کرتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ کہتے جاتے ہیں کہ اے خدا ہماری قربانی اس قابل نہیں کہ تیرے حضور پیش کی جاسکے۔تیری ہستی نہایت اعلیٰ و ارفع ہے۔ہاں ہم امید رکھتے ہیں کہ تو چشم پوشی سے کام لیتے ہوئے اسے قبول فرمالے گا۔تیرا نام سمیع ہے اور تو دعائوں کو سننے والا ہے۔ہماری یہ قربانی قبول کرنے کے لائق تو نہیں مگر تو جانتا ہے کہ ہمارے پاس اس سے زیادہ اور کچھ چیز نہیں جو تیرے سامنے پیش کریں۔ایک طرف تیرا سمیع ہونا چاہتاہے کہ تو ہم پر رحم کرے اور دوسری طرف تیرا علیم ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ تو جانتا ہے کہ ہمارے جیسے نے کیا قربانی کرنی ہے۔اسی رُوح کا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے مظاہرہ کیا۔اور جب وہ دونوںمل کر بیت اللہ کی بنیادیںاُٹھا رہے تھے تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرتے جاتے تھے کہ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا۔اے ہمارے رب ہم نے خالص تیری توحید اور محبت کے لئے یہ گھر بنایا ہے تو اپنے فضل سے اسے قبول کر لے اور اس کو ہمیشہ اپنے ذکر اور برکت کی جگہ بنا دے۔اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ تُو ہماری درد مندانہ دعائوں کو سننے والا اورہمارے حالات کو خوب جاننے والا ہے۔تو اگر فیصلہ کر دے کہ یہ گھر ہمیشہ تیرے ذکر کے لئے مخصوص رہے گا تو اسے کون بدل سکتا ہے۔اس آیت سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بیت اللہ بنا نے کے درحقیقت دو۲ حصّے ہیں۔ایک حصہ بندے سے تعلق رکھتا ہے اور دوسرا حصہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہے جس مکان کو ہم بیت اللہ کہتے ہیں وہ اینٹوں سے بنتا ہے۔چُونے سے بنتا ہے گارے سے بنتا ہے اور یہ کام خدا نہیں کرتا بلکہ انسان کرتا ہے۔مگر کیا انسان کے بنانے سے کوئی مکان بیت اللہ بن سکتا ہے۔انسان تو صرف ڈھانچہ بناتا ہے روح اس میں خدا تعالیٰ ڈالتا ہے۔اسی امر کو مدِّنظر رکھتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ڈھانچہ تو میں نے اور اسمٰعیل ؑ نے بنا دیا ہے مگر ہمارے بنانے سے کیا بنتا ہے۔کئی مسجدیں ایسی ہیں جو بادشاہوں اور شہزادوں نے بنائیں مگر آج وہ ویران پڑی ہیں۔اس لئے کہ انسان نے تو مسجدیں بنائیں مگر خدا نے انہیں قبول نہ کیا۔پس حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسمٰعیل ؑ کہتے ہیں کہ اے خدا! ہم نے تیراگھر بنایا ہے اسے تو قبول فرما۔اور تو سچ مچ اس میں رہ پڑ۔اور جب خدا کسی جگہ بس جائے تو وہ کیسے اُجڑ سکتا ہے۔گائوں اُجڑ جائیں تو اُجڑ جائیں شہر اُجڑ جائیں تو اُجڑ جائیں مگر وہ مقام کبھی اُجڑ نہیں سکتا جس جگہ خدا بس گیا ہو۔