تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 444

رکھو۔سویہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک فرزند نرینہ کا ختنہ کیا جائے اور تم اپنے بدن کی کھلڑی کا ختنہ کرو۔اور یہ اُس عہد کا نشان ہو گا۔جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔تمہاری پشت در پشت ہر لڑکے کا جب وہ آٹھ روز کا ہو ختنہ کیا جائے گا۔کیا گھر کا پیدا۔کیا پردیسی سے خریدا ہوا جو تیری نسل کا نہیں۔لازم ہے کہ تیرے خانہ زاد اور تیرے زرخرید کا ختنہ کیا جائے۔اور میرا عہد تمہارے جسموں میں عہد ابدی ہو گا اور وہ فرزند نرینہ جس کا ختنہ نہیں ہوا وہی شخص اپنے لوگوں میں سے کٹ جائے کہ اُس نے میرا عہد توڑا۔‘‘ اِن آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اُن کی اولاد کی نسبت جو عہد کیا گیا تھا وہ مشروط تھا اور اس کی ظاہری علامت ختنہ تھا۔اور صاف طور پر کہہ دیا گیا تھا کہ تیری اولاد میں سے جو اِس عہد کی پابندی نہیں کریں گے۔خدا تعالیٰ کا عہد بھی اُن سے کوئی نہیں رہے گا۔اوراُن کو وہ انعامات نہیں ملیں گے جن کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ سے وعدہ کیا گیاہے۔اس عہد کا ظاہری نشان جو ختنہ کی صورت میں قائم کیا گیا تھا بنی اسرائیل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جاری رہا اور یہ قوم خدا تعالیٰ کے انعامات کی وارث رہی۔مگر جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام آگئے تو بنی اسرائیل کا وہ حصّہ جو اُن پر ایمان نہ لایا تھا اس گروہ سے کٹ گیا جس کو انعامات کا وعدہ دیا گیا تھا اور صرف وہی لوگ انعامات کے مستحق رہ گئے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے۔لیکن آگے چل کر انہوں نے بھی عہد توڑ دیا۔اور ختنہ جو اس عہد کا ایک ظاہری نشان تھا اسے ترک کر دیا۔غرض اس قوم کا کچھ حصہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے انکار کی وجہ سے خدائی انعامات سے محروم ہو گیا اور جنہوں نے مانا تھا انہوں نے ختنہ چھوڑ کر اور شریعت کو لعنت قرار دیکر اپنے آپ کو خدائی فضلوں سے محروم کر لیا۔اور یہ وعدہ بنواسحاق سے بنواسماعیل کی طرف منتقل ہو گیا۔اور میرے نزدیک اس جگہ یہی ذکر ہے کہ امامت کا مقام بنو اسحاق کو نہیں ملے گا کیونکہ وہ بحیثیت جماعت ظالم ہوجانے والے تھے۔ہاں بنو اسمٰعیل کو ملے گا۔کیونکہ وہ بحیثیت جماعت کبھی ظالم نہیں ہوںگے۔بلکہ ہر زمانہ میں اُن میں ایسے لوگ ہوتے رہیں گے جو خدا تعالیٰ کی وحی کے قائل ہوں گے۔چنانچہ اِسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دنیا کا امام بنایا گیا۔اور آپؐ کی امت میں سے اِس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ مقام بخشا گیا۔