تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 442
مطلب ہو گا کہ ہر اسلام لانے والا اور اپنے آپ کو مسلم کہنے والا نبی سے بالا ہو جاتا ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا کہ مسلم بن جائو اورا نہوں نے اَسْلَمْتُ کہا۔اسی طرح اگر امامت نبوت کے بعد ملنے کے یہ معنے ہیں کہ امام نبی سے بڑا ہوتا ہے تو پھر امامت تو الگ رہی ان معنوں کو تسلیم کرتے ہوئے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ ہر مسلم کا درجہ نبی سے بڑا ہوتا ہے کیونکہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نبوت کے بعد امامت ملی۔اسی طرح نبوت کے بعد انہیں مسلم بھی بننا پڑا۔اس صورت میں ہر مسلم نبی سے بڑا ہو جاتا ہے۔پس خالی امامت نبوت سے بڑی نہیں ہوتی بلکہ وہ امامت جو نبوت کے بعد ملتی ہے وہ بڑی ہوتی ہے۔جس طرح خالی اسلام نبوت سے بڑا نہیں ہوتا بلکہ وہ اسلام جو نبوت کے بعد حاصل ہوتا ہے بڑا ہوتا ہے۔غرض ہر چیز کا الگ الگ دائرہ ہے۔ایک اسلام وہ ہے جو ایمان سے ادنیٰ ہوتا ہے اور ایک اسلام وہ ہے جو ایمان کے بعد حاصل ہوتا ہے اور ایک اسلام وہ ہے جو نبوت کے بعد حاصل ہوتاہے۔جیسے مانیٹر کا لفظ ایک ہی ہے مگر ایک ادنیٰ جماعت کا مانیٹر ہوتا ہے اور ایک بڑی جماعت کا۔اب ادنیٰ جماعت کے مانیٹر ہونے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ اونچی کلاس کے مانیٹر سے بھی بالا ہے۔اس کا علم تو ایک بڑی جماعت کے طالبعلم سے بھی کم ہوتاہے۔اسی طرح وہ امامت جو نبوت سے الگ ہوتی ہے اُسے اس امامت سے جو نبوت کے بعد ملتی ہے کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی۔خود مسلمانوں میں دیکھ لو کہ نماز پڑھا نے والا امام کہلاتا ہے۔پھرخلیفہ بھی امام ہوتا ہے اور نبی بھی امام ہوتا ہے۔اِدھر قرآن کریم میں یہ دُعا سکھلائی گئی ہے وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (الفرقان:۷۵)کہ الہٰی کچھ مومن بھی میرے مقتدی بنا دے اور مجھے اُن کا امام بنا اب کیا اس کے یہ معنے ہوںگے کہ ہر شخص یہ دُعا کرتا ہے کہ اُسے نبیوں سے بالا درجہ مل جائے؟ اگر اس کے یہ معنے ہوں تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ نبیوں سے بالا درجہ بھی مل سکتا ہے کیونکہ اس کی دُعا سکھائی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر شخص نبی سے بڑا درجہ پا سکتا ہے۔حالانکہ اس کے شیعہ بھی قائل نہیں۔درحقیقتاِنِّيْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا کے معنے یہ ہیں کہ اے ابراہیم! تو اپنی قوم کے لئے نبی تھا مگر چونکہ تو آزمائشوں میں ثابت قدم نکلا ہے اور تُو نے بڑی دلیری سے میرے حکم کو مانتے ہوئے اپنی بیوی اور بچے کو ایک ایسے جنگل میں جا کر بسا دیا ہے جہاں پانی کا ایک قطرہ اور گھاس کی ایک پتی تک نہ تھی اور تُو نے اپنی اور اپنے خاندان کی موت قبول کر لی ہے اس لئے میں بھی تجھے یہ انعام بخشوںگا کہ تیرا یہ واقعہ ساری دنیا کے لوگوں کے لئے قیامت تک بطور نمونہ قائم رہیگا۔اور جب بھی دنیا کو آزمائشوں اور امتحانوں میں ثابت قدم رہنے کا درس دیا جائے گا تو اس وقت تیرے اس واقعہ کو نمونہ کے طور پر پیش کیا جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا