تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 441
ہیں۔اور پتہ لگ جاتا ہے کہ فلاں قوم سے اسے نسبت ہے اور اس اضافت سے معنوں میں فرق پڑ جاتا ہے۔اس کی مثال قرآن کریم میں بھی ملتی ہے۔قرآن کریم میں صدّیق کا لفظ آتا ہے جس کے معنے بڑے راستباز کے ہیں اب بڑا راستباز نبی بھی ہوسکتا ہے اور غیر نبی بھی۔اگر صدّیق کالفظ عام معنوں میں ہو تو یہ درجہ نبی سے چھوٹا ہے مگر جب یہ لفظ نبی کے لئے آئے تو اس وقت یہ کسی خاص خصوصیت کا حامل بن جاتا ہے۔جیسے قرآن کریم میں حضرت ادریس ؑ کے متعلق آتا ہے۔وَ اذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ١ٞ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا (مریم :۵۷) یعنی تو قرآن کریم کی رو سے ادریس ؑ کا بھی ذکر کر وہ ایک صدیق نبی تھا۔حالانکہ دوسری جگہ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ(النّساء:۷۰)میں صدّیقیت کو نبوت سے نیچے رکھا ہے۔اسی طرح حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی نسبت آتا ہے كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِيًّا (مریم:۵۶) کہ وہ اپنے رب کے حضور پسندیدہ وجود تھا۔مگر دوسری جگہ یہ درجہ نبوت سے نیچے رکھا ہے۔جیسے فرمایا۔يٰۤاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ۔ارْجِعِيْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (الفجر :۲۸،۲۹) کہ اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف ایسی حالت میں واپس جا کہ تو اس سے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔اِس آیت میں ہر مومن کا نام جو نفسِ مطمئنہ رکھتا ہے اور ایمان کی حالت میں وفات پاتا ہے، مرضیہ رکھا گیا ہے۔اگر كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِيًّا کے ہم یہ معنے کریں کے وہ ہر شخص جس سے خدا راضی ہو نبی سے بالا ہوتا ہے تو ہمیں تسلیم کرنا پڑیگا کہ ہر مومن جو نفسِ مطمئنہ رکھتا ہے وہ نبی سے بالا مقام رکھتا ہے۔یا صِدِّیْقًا نَبِیًّا کے ماتحت کہنا پڑیگا کہ صدیق کا لفظ جس کے متعلق آئے وہ نبی سے بالا ہوتا ہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے متعلق آتا ہے کہ قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا يَدْخُلِ الْاِيْمَانُ فِيْ قُلُوْبِكُمْ (الحجرات :۱۵) یعنی اعراب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آکر کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں۔تُو کہہ دے کہ تم ابھی ایمان نہیں لائے۔ہاں تم یہ کہو کہ ہم اسلام لے آئے ہیں ورنہ ایمان تو ابھی تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔گویا اسلام ایمان کا ابتدائی درجہ ہے مگر اسی جگہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق آتا ہے۔اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ (البقرة:۱۳۲)۔یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اُس کے رب نے کہا کہ تو اسلام لا۔یعنی ہماری فرمانبرداری اختیار کر تو انہوں نے کہا کہ خدایا َمیں تو پہلے ہی تمام جہانوں کے رب کی فرمانبرداری اختیار کر چکا ہوں۔یہ حکم ان کو نبوت کے بعد ہوا اور انہوں نے اَسْلَمْتُ کہا۔جس کی خدا تعالیٰ نے بڑی تعریف فرمائی اور ادھر اٰمَنَّا کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اَسْلَمْنَا کہو۔ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلام ایمان سے بھی ادنیٰ تھا اگر شیعوں والے معنے لئے جائیں تو اس کا یہ