تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 436

حقیقت یہ ہے کہ جب قومیں اپنے تنزل کے دور میں اعمال صالحہ کی بجا آوری میں کمزور ہو جاتی ہیں تو وہ شفاعتِ انبیاء پر زور دینے لگ جاتی ہیں۔صحابہؓ کے اقوال میں ہمیں یہ بات کہیں نظر نہیں آتی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے ہم نجات حاصل کرلیں گے۔بلکہ اُن کے کلام میں نیکی اور تقویٰ اور قرآن کریم پر عمل اور قربانیاں کرنے پر خاص طور پر زور پایاجاتا ہے مگر جُوں جُوں انبیاء سے بُعد ہوتا جاتا ہے لوگ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ ہم اپنے نبیوں کی شفاعت سے جنت میں چلے جائیں گے۔چونکہ یہود بھی شفاعتِ انبیاء پر بھروسہ کر کے بیٹھے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا اس آیت میں ردّ کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان کا یہ خیال اُن کو کچھ بھی فائدہ نہیں دیگا۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اس لئے ابراہیم ؑ ہماری شفاعت کریں گے یا ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں سے ہیں اس لئے موسیٰ ؑ ہماری شفاعت کرینگے وہ غلطی پر ہیں۔جب اس مضمون کو رکوع ۶ سے شروع کیا گیا تھا تو اس وقت چونکہ یہود کے اس دعوے کو ردّ کرنے پر خاص طور پر زور دینا مدّنظر تھا کہ انبیاء ہماری شفاعت کریں گے اس لئے شفاعت کو جس پر سارازور تھا مقدّم رکھا۔اور فرمایا کہ ان کے متعلق نہ شفاعت قبول کی جائے گی جسے یہ اپنا حق سمجھتے ہیں اور نہ یہ اپنے بد اعمال کا معاوضہ پیش کر سکیں گے۔لَایُقْبَلُ مِنْھَا شَفَاعَۃٌ کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں شرمندہ کیا ہے کہ تم کس مُنہ سے کہتے ہو کہ انبیاء ہماری شفاعت کرینگے کیا تم نے موسیٰ علیہ السلام کی اطاعت کی تھی۔کیا سلیمان علیہ السلام کی اطاعت کی تھی کیا عیسیٰ علیہ السلام کی اطاعت کی تھی۔کیا دوسرے انبیاء کی اطاعت کی تھی تم نے ہر ایک کا انکار کیا اور اس کی مخالفت کی۔اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو تم نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یہ ہم میں سے نہیں ہیں۔اس لئے ہم اس پر کس طرح ایمان لائیں۔حالانکہ سوال یہ ہے کہ تم نے کس نبی کی مخالفت نہیں کی؟ تم ہر ایک سے لڑتے رہے اور تم نے ہر ایک کی تکذیب کی پس جب ہر ایک کی تم تکذیب ہی کرتے رہے ہو تو اب تمہاری کون شفاعت کریگا۔کیا موسیٰ علیہ السلام کریں گے جن کو تم نے فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَٓا اِنَّا ھٰھُنَا قَاعِدُوْنَ (المائدة:۲۵) کہا تھا یا حضرت سلیمان علیہ السلام کریں گے جن کو تم نے کافر قرار دیا تھا۔یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کرینگے جن کو تم نے لعنتی قرار دیا تھا۔آخر تم کس کی شفاعت کے امیدوار ہو۔اس کے بعد چونکہ شفاعت پر اُن کو زیادہ گھمنڈ نہیں ہوسکتا تھا اور اُن کی ہمتیں ٹوٹ چکی تھیں اس لئے اب قدرتی طور پر انہیں یہی خیال ہو سکتا تھا کہ کوئی بدلہ لے کر چھوڑ دے۔اس وجہ سے مضمون بھی تبدیل کر دیا گیا اور عدل کو پہلے اور شفاعت کو بعد میں رکھ دیا گیا اور مایوسی کے کمال کو ظاہر کرنے کے لئے یُؤْخَذُ