تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 434
وَ اتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِيْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَيْـًٔا وَّ لَا يُقْبَلُ اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص قطعاً کسی دوسرے شخص کا قائم مقام نہ ہو سکے گااور نہ اس سے کسی قسم کا مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ يُنْصَرُوْنَ۰۰۱۲۴ معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ کوئی سفارش اسے فائدہ دے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔تفسیر۔یہ آیت سورۃ بقرۃ کے رکوع۶ میں بھی آچکی ہے مگر اس فرق کے ساتھ کہ اُس آیت میں لَایُقْبَلُ مِنْھَا شَفَاعَۃٌ تھا اور اس میں لَایُقْبَلُ مِنْھَا عَدْلٌہے پھر پہلی آیت میں جہاں وَلَا یُوْ خَذُ مِنْھَا عَدْلٌ تھا وہاں اس آیت میں وَلَا تَنْفَعُھَا شَفَاعَۃٌ(البقرۃ:۴۹)رکھ دیا۔اسی طرح پہلی آیت میںعدل کا ذکر تیسری جگہ تھا اور شفاعت کا دوسری جگہ اور اس میں شفاعت کا تیسری جگہ اور عدل کا دوسری جگہ ذکر ہے۔گویا اِن دو آیات میں تین فرق ہیں۔(۱)ایک فرق تویہ ہے کہ پہلی آیت میں شفاعت کا ذکر پہلے تھا اور عدل کا بعد میں لیکن دوسری آیت میں عدل کا ذکر دوسری جگہ آگیا ہے اور شفاعت کا ذکر تیسری جگہ۔(۲) دوسرا فرق یہ ہے کہ پہلی آیت میں عدل کے متعلق لَا یُؤْ خَذُ کے الفاظ تھے اور دوسری آیت میں لَا یُقْبَلُ آگیاہے۔(۳) تیسرا فرق یہ ہے کہ پہلی آیت میں شفاعت کے لئے لَایُقْبَلُ تھا اور دوسری آیت میں لَاتَنْفَعُھَا کر دیا گیا۔اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ پہلی آیت اس مقام پر بیان کی گئی ہے جبکہ ابھی بنی اسرائیل کے عیوب شمار نہیں کئے گئے تھے۔اور یہ قدرتی بات ہے کہ جب تک انسان پر اپنی کمزوریاں نہیں کھلتیں اُس کی اُمیدیں وسیع ہوتی ہیںاور وہ اپنے بزرگوں کی امداد پر زیادہ بھروسہ رکھتا ہے۔اس لئے پہلی آیت میں شفاعت کو پہلے رکھا گیا ہے۔کیونکہ یہود یہ اُمید رکھتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہماری شفاعت کر کے ہمیں بچالیں گے اور وَلَا یُؤْخَذُ مِنْھَا عَدْ لٌ کو بعد میں رکھا گیا۔کیونکہ جسے شفاعت کی اُمید ہو وہ عدل دینے پر زیادہ آمادہ نہیں ہوتاکیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ بغیر اس کے بھی کام نکل جائے گا۔لیکن اس آیت کے بعد جب یہود کی نافرمانیاں اور انبیاء کی مخالفتیں چھٹے رکوع سے شروع کر کے پندرھویں رکوع تک بیان کر دی گئیں اور ان کی مخالفتِ انبیاء کا راز فاش کر دیا گیا تو ان کی یہ اُمید بھی جاتی رہی کہ نبی ہماری شفاعت کرینگے۔اس لئے اب طبعی ترتیب یہ ہو گی کہ عدل کا ذکر پہلے ہو اور شفاعت کا ذکر بعد میں کیونکہ اب وہ شفاعت پر زیادہ زور نہیں دے سکتے تھے اور اُن کی یہ امید کمزور ہو گئی تھی صرف عدل ہی رہ گیا تھا کہ شاید بدلہ دے کر چھوٹ جائیں اس لئے پہلے