تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 433

نہیں ہو سکتی اور اگر آلِ عمران کو سب پر فضیلت حاصل ہو تو آلِ ابراہیم ؑ کو سب پر فضیلت نہیں ہو سکتی۔پس اس آیت کے یا تو یہ معنے ہیں کہ اُن سب کو اپنے اپنے زمانہ میں باقی تمام لوگوں پر فضیلت حاصل تھی اور یا پھر یہ معنے ہیں کہ صاحبِ وحی کو غیر صاحبِ وحی پر فضیلت ہو تی ہے۔وحی کا تو صرف ایک عالم ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ایک ہی ہے لیکن کفر کے کئی عالم ہوتے ہیں۔ان عالموں کے افراد نزولِ وحی کو بھول کر باطل باتیں اپنی طرف منسوب کر لیتے ہیں اور اپنے آپ کو کسی نبی کی طرف نہیں بلکہ کسی فلسفی کی طرف منسوب کر نے لگ جاتے ہیں۔جیسے بہت سے عیسائی اپنے آپ کو فلسفہ کا تابع قرار دیتے ہیں۔مسلمان بھی آہستہ آہستہ یونانی فلسفہ کی طرف مائل ہو گئے تھے۔اور گو کوئی قوم ایسی نہیں جس کی بناء کسی مذہب کے ہاتھوں نہ رکھی گئی ہو لیکن افراد کے لحاظ سے کروڑوں ایسے ہیں جو کسی کتاب کے تابع نہیں ہیں۔اسی طرح الہام کی اتباع کا دعویٰ کرنے کے باوجود ہزاروں مسلمان ایسے ہیں جو مذہب سے بیگانہ ہیں اور فلسفہ کے قائل ہیں۔غرض تمام علمی اور اخلاقی اور اعتقادی باتوں پر الہام کو ہمیشہ فضیلت حاصل رہی ہے۔فلسفیوں کی باتیں کمزور اور ناقص نظر آئیں گی اور الہام الہٰی کی باتیں مضبوط اور غالب دکھائی دیںگی۔پس فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَمیں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت کی تشریح کی ہے اور بتایا ہے کہ اس نعمت سے مراد انبیاء اور رُسُل کا ایک لمبا سلسلہ ہے جو بنی اسرائیل میں جاری رہا جیسا کہ قرآن کریم میں سورۃ فاتحہ میں ایک طرف تو مومنوں کو یہ دُعا سکھلائی کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ اور دوسری طرف منعم علیہ گروہ کی تعیین کرتے ہوئے فرمایا کہ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَ الصِّدِّيْقِيْنَ۠ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِيْنَ(النّساء :۷۰) یعنی جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کریںگے وہ اُن لوگوں میں شامل ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔پس چونکہ کمالِ انعام وحی سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے تم پر وحی نازل کر کے تمہیں غیر وحی والی قوموں پر بڑی بھاری فضیلت دی تھی اور جس طرح یہ کمال تمہیں صرف وحی کی وجہ سے حاصل ہوا تھا اسی طرح اب مسلمانوں کو تم پر وحی کے ذریعہ فضیلت دے دی گئی ہے۔اگر تم اسے ردّ کرو گے تو تمہارا بھی وہی حال ہو گا جو تمہارے مقابل پر دوسروں کاہوا تھا۔بنی اسرائیل تجربہ کر چکے تھے کہ بڑے بڑے فلاسفر موسیٰ ؑ کے الہام کے مقابلہ پر آئے مگر ان تمام کو تورات نے شکست دی۔پس فرمایا کہ اگر تم اس کے مقابلہ پرآئو گے تو تمہاری عقلیں بھی کسی کام نہ آئیں گی اور تم اس کے مقابلہ میں ناکام رہو گے۔