تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 432

تمہیں عطا ہوئی اور دوسرے وہ نعمت ایسی تھی جس نے تمام قوموں پر تمہیں فضیلت دے دی تھی۔اس جگہ بنی اسرائیل کو پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے متواتر انعامات یاد دلا کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ بنی اسرائیل کو اب شکایت کا کوئی حق نہیں کہ نعمت ِ نبوت بنو اسمٰعیل کو کیوں عطا کی گئی ہے کیونکہ ان سے وعدہ پورا ہو چکا ہے۔اب جس خدا نے ان کا وعدہ پورا کیا ضروری تھا کہ وہ بنو اسمٰعیل کا وعدہ بھی پورا کرتا۔کیونکہ حضرت ابراہیم ؑ سے خدا تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ میں اُن کے دونوںبیٹوں کے ساتھ نیک سلوک کروںگا(پیدائش باب ۱۵ و ۱۷) جب ایک سے وعدہ پورا ہوا تو ضروری تھا کہ دوسرے سے بھی پورا ہو۔پس اب اُن کے لئے کسی شکایت کا موقع نہیں۔اَنِّيْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ۔یہ قرآن کریم کا محاورہ ہے کہ جس قوم میں اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی آئے اور اُسے کلامِ الہٰی کی نعمت سے سرفراز فرمایا جائے اُس کے لئے فَضَّلْتُكُمْکے الفاظ آتے ہیں۔کیونکہ الہام کو باقی علوم پر فضیلت حاصل ہوتی ہے۔باقی علوم میں غلطیاں بھی ہو سکتی ہیں۔مگر الہام میں کوئی غلطی نہیں ہوتی۔اس لئے جو قوم موردِ الہامِ الہٰی ہو وہ تمام قوموں پر فضیلت رکھتی ہے۔اس میں عَالَمِیْن سے تمام دنیا کی قومیں مراد نہیں۔بلکہ صرف وہ قومیں مراد ہیں جن میں الہام الہٰی کا سلسلہ جاری نہیں تھا۔کیونکہ اس جگہ صرف وحیٔ نبوت کو فضیلت کا موجب قرار دیا گیا ہے پس وحی الہٰی کی مورد اقوام اس میں شامل نہیں بلکہ صرف غیر وحی والی اقوام عَالَمِیْن میں شامل ہیں۔اس لئے یہ جھگڑا ہی غلط ہے کہ اس قوم کو اس پر فضیلت ہے اور اس کو اُس پر فضیلت ہے کیونکہ یہ الفاظ قرآن کریم میں مختلف اقوام کے متعلق استعمال ہوئے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ قرآن کریم کا یہ ہرگز منشا نہیں کہ وہ تمام قومیں ایک دوسرے پر فضیلت رکھتی ہیں مثلاً سورۃ آل عمران میں آتا ہے۔اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ (آل عمران:۳۴)یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ اور نوح ؑ اور آلِ ابراہیم ؑ اور آلِ عمران کو تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی۔اب اس میں یہ ذکر ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو بھی تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی اور حضرت نوح علیہ السلام کو بھی تمام عالموں پر فضیلت دی تھی اور آل ابراہیم ؑ اور آل عمران کو بھی تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی حالانکہ اگر یہ تسلیم کیا جائے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو تمام بنی آدم پر فضیلت تھی توپھر حضر ت نوح علیہ السلام کو تمام پر فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ آدم ؑ اُن کے دائرہ سے نکل گئے۔اور اگر حضرت نوح علیہ السلام کو باہر نکال لیں تو آدم علیہ السلام کو سب پر فضیلت نہیں ہو سکتی۔اسی طرح آلِ ابراہیم ؑ کے متعلق فرمایا ہے کہ ہم نے اُسے بھی تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی۔اب اگر بنو اسمٰعیل کو سب پر فضیلت ہو تو بنو اسحاق کونہیں ہو سکتی اور اگر بنو اسحاق کو سب پر فضیلت ہو تو بنو اسمٰعیل ؑ کو سب پر فضیلت نہیں ہو سکتی اور اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسل کو سب پر فضیلت ہو تو آل ابراہیم ؑ کو سب پر فضیلت