تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 431
آیت۱۲۱ میں مخالفت کی اصل وجہ بتائی کہ اُن کی خواہشات کے مطابق تمہاری تعلیم نہیں۔اس کا جواب یہ دیا کہ صراطِ مستقیم وہی ہے جس پر خدا تعالیٰ قائم کرے پس جو ہدایت کو دیکھ کر پھر گمراہی کی طرف جھکے گا وہ سزا پائے گا۔آیت۱۲۲ میں فرمایا کہ مسلمان جن کو ہم نے قرآن کریم عطا کیا ہے اور جو اس کی تعلیم پر کامل طور پر عمل پیرا ہیں وہ ایک دن کامیاب ہوں گے اور خسارہ پانے والے صرف وہی لوگ ہوں گےجو اس کتاب کے منکر ہیں۔يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ اے بنی اسرائیل ! میرے اس احسان کو جو مَیں تم پر کر چکا ہوں یاد کرو وَ اَنِّيْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِيْنَ۰۰۱۲۳ اور (اس بات کو بھی ) کہ مَیں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی۔تفسیر۔وہ مضمون جو گذشتہ رکوع پر ختم کیا گیا ہے پانچویں رکوع سے شروع ہوا تھا۔حضرت آدم علیہ السلام کا واقعہ بیان کرنے اور اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد کہ کلامِ الٰہی کا نزول ابتدائے انسانیت سے جاری ہے بنی اسرائیل کے انعامات کا ذکر کیا گیا تھااور اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ يٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِيْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ (البقرۃ :۴۱) یعنی اے بنی اسرائیل! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی تھی اور میرے عہد کو پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا اور صرف مجھ سے ہی ڈرو۔اس میں بتایا گیا تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام سے نبوت شروع ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام تک آئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح ؑ ناصری کے زمانہ تک پہنچی۔پس جب وہ تمہارے قریب ترین زمانہ تک چلی آئی ہے اور اس میں کوئی انقطاع واقع نہیں ہوا تو کوئی وجہ نہیں کہ جو سلسلہ ابتدائے عالم سے چلا آرہا ہے اسے اب تم ختم سمجھو اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے انکار کردو۔قرآن کریم کا طریق ہے کہ جب وہ کسی مضمون کو ختم کرنا چاہتا ہے تو وہاں کوئی قرینہ رکھ دیتا ہے جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اب نیا مضمون شروع ہونے والا ہے۔اس جگہ بھیيٰبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِيَ الَّتِيْۤ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اے بنی اسرائیل ان تمام باتوں کے بعد جو ہم نے تمہارے سامنے بیان کی ہیں تم یاد تو کرو کہ مَیں نے اپنی نعمت تم پر کس طرح مکمل کی اور اس بات کو بھی یاد کرو کہ مَیںنے تم کو تمام قوموں پر فضیلت دی یعنی دو قسم کی برکات تم پر نازل ہوئیں ایک تو یہ کہ نعمت نبوت