تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 430
دین کو ازسرِ نو قائم کرتی اور چونکہ یہ لوگ اپنا مال، اپناآرام اور اپنی جانیں اسلام کے لئے قربان کر رہے ہیں اس لئے معلوم ہوا کہ یہی لوگ حق پر ہیں اور جس کتاب پر ایمان لائے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے کیونکہ جو کتاب دنیا میں ہدایت قائم کر دیتی ہے وہی خدا کی طرف سے نازل شدہ سمجھی جاسکتی ہے۔اُولٰٓىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ یہ دوسرا جملہ ہے یعنی وہی اس پر پختہ ایمان لاتے ہیں۔یہ اس رسمی ایمان کے علاوہ ہے جس کا پہلے ذکر آچکا ہے۔دراصل ایمان کے دو۲ مدارج ہیں پہلا درجہ دلیل کے ساتھ ایمان لانا ہے مگر دلیل انسان کو اس مقام تک نہیں پہنچاتی جسے مشاہدہ کا مقام کہتے ہیں۔وہ ماننا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے بادشاہ یا حاکم وقت کی حکومت مان لی جائے۔مگر دوسرا درجہ انکشاف کا ہوتا ہے۔اس مقام پر پہنچ کر انسان کا خدا تعالیٰ سے اتصال ہو جاتا ہے اور رسمی ایمان حقیقی ایمان کی شکل اختیار کر کے اس کا جزوبن جاتا ہے اور اُسے بشاشت قلبی حاصل ہو جاتی ہے۔جس کے بعد اُس کے لئے کسی ارتداد یا ٹھوکر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ کے الفاظ بھی بتاتے ہیں کہ اَلْکِتٰب سے یہاں قرآن کریم ہی مراد ہے نہ کہ بائیبل۔کیونکہ قرآن کریم کی موجودگی میں بائیبل کا انکار کرنے والے خاسر نہ تھے بلکہ بائیبل پر عمل کرنیوالے خاسر تھے۔صرف قرآن کریم ہی ایک ایسی کتاب ہے جس پر ایمان نہ لا کر انسان خسارہ پاتا ہے لیکن باقی کتابوں کو چھوڑ کر انسان خسارہ نہیں بلکہ نفع پاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتا ہے اس رکو ع کی آیت۱۱۴ میں یہودو نصاریٰ کی ایک اور بدی بیان فرمائی تھی کہ یہ ایک دوسرے کو ازراہ تعصب و ضِد بُرا کہتے ہیں اور ان کی کسی خوبی کے بھی قائل نہیں حالانکہ ایک کتاب کو ماننے کی وجہ سے ان میں کچھ باتیں مشترک بھی ہیں۔آیت نمبر۱۱۵ میں بتایا کہ اُن کا بُغض اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ایک دوسرے کو عبادت کرتے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔مقدس مقامات میں گھسنے نہیں دیتے حالانکہ عبادت خانوں کے معاملہ میں نہایت خوف سے کام لینا چاہیے۔آیت۱۱۶ میں مسلمانوں کو بتایا کہ ان کی مخالفت سے مت ڈرو۔یہ موردِ غضب الہٰی ہو رہے ہیں۔جدھر تمہاری توجہ ہو گی اُدھر ہی اللہ تعالیٰ تمہاری کامیابی کے سامان پیدا کر ے گا۔آیت۱۱۷ میں یہودی مذہب کی شاخ مسیحیت کی بُرائی بھی بتا دی تاکہ اُن کو بھی معلوم ہو جائے کہ اُن میں نبی کیوں پیدا نہ ہوا اور کیوں وہ مکالمہ و مخاطبہ الٰہیہ کی نعمت سے محروم ہیں۔آیت۱۱۸ میں ابنیت کے غلط مفہوم کی تین دلائل سے تردید فرمائی۔آیت۱۱۹ میں اُن کے دو۲ اعتراضوں کے جواب دیئے۔اول اس کا کہ اگر ہم غلطی پر ہیں تو خدا تعالیٰ بذریعہ الہام ہمیں کیوں آگاہ نہیں کرتا۔دوم ہم پر باوجود مخالفت کے عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا۔آیت۱۲۰ میں بتایا کہ ہر رسول بشیر اور نذیر ہوتا ہے۔پس عذاب تو ضرور آئے گا مگر آہستہ آہستہ۔