تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 429
تفسیر۔اس جگہ لوگوں نے غلطی سے اَلْکِتٰب سے مراد بائیبل لی ہے۔مگر یہ معنے اس جگہ کسی طرح چسپاں نہیں ہوسکتے۔کیونکہ اگر اس سے بائیبل مراد لیں تو اس صورت میں آیت کاترجمہ یہ بنتا ہے کہ جن لوگوں کو ہم نے بائیبل دی ہے وہ اس کی اس طرح پیروی کرتے ہیں جس طرح اس کی پیروی کرنی چاہیے اور وہ اس کی صداقت پر پختہ ایمان رکھتے ہیں حالانکہ نہ یہودی تورات پر عمل کررہے تھے اور نہ عیسائی انجیل پر عمل کرتے تھے۔پس یہ معنے یہاں چسپاں ہی نہیں ہو سکتے۔یہاں اَلْکِتٰب سے مراد وہی کتاب ہو سکتی ہے جس کے ماننے والے اس کی کامل پیروی کرتے تھے۔جب بائیبل کے احکام پر عمل ہی نہیں کیا جاتا تھا تو اَلْکِتٰب سے تورا ت کس طرح مراد ہو سکتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے خود بتایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ ٖوسلم کے زمانہ میں تورات و انجیل سب محرف و مبدل ہو چکی تھیں۔اور اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہ رہی تھیں جیسا کہ وہ یہود کے متعلق فرماتا ہے کہ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَيْدِيْهِمْ١ۗ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ (البقرۃ :۸۰) یعنی وہ اپنے ہاتھوں سے تورات میں بعض باتیں بڑھا دیتے اور پھر کہہ دیتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ الہام ہے۔اتنی بڑی تحریف کے بعد اُن کی خوبیاں بیان کرنے اور تعریف کرنے کے کوئی معنے ہی نہیں ہو سکتے تھے۔اگر ایسا ہوتا تو پھر قرآن کریم کی کوئی ضرورت نہ تھی۔تورات اور انجیل ہی لوگوں کی ہدایت کے لئے کافی تھیں۔پس یہاں اَلْکِتٰب سے مراد قرآن کریم ہے نہ کہ تورات۔چونکہ دوسری جگہ یہود کے لئے بھی اہل کتاب کا لفظ آیا ہے اس لئے لوگ غلطی سے یہاں بھی وہی مراد لے لیتے ہیں۔حالانکہ ہمیشہ قرائن کو مدِّنظر رکھ کر معنے کرنے چاہئیں۔اگر کوئی غیر مشترک لفظ ہو تو پھر تو کوئی جھگڑا ہی نہیں ہوتا۔لیکن مشترک لفظ ہو تو پھر قاعدہ یہ ہے کہ قرینہ دیکھا جاتا ہے اور یہ بھی کہ آیت کے معنے کس فریق پر چسپاں ہو سکتے ہیں چونکہ اَلْکِتٰب کا لفظ تورات پر بھی بولا جاتا ہے اور قرآن کریم پر بھی اس لئے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اس جگہ اَلْکِتٰب کا لفظ کس کے متعلق استعمال کیا گیا ہے۔حضرت قتادہؓ جو رئیس التابعین ہیں اُن کا قول ہے کہ اس جگہ اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ سے مسلمان مراد ہیں اور اَلْکِتٰب سے مراد قرآن کریم ہے (ابنِ کثیرزیر آیت ھٰذا) درحقیقت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کو ملزم قرار دیا ہے کہ تم نے تو تورات کو پسِ پشت پھینک رکھا تھا مگر اب یہ لوگ جن کو ہم نے قرآن کریم دیا ہے اس پر پوری طرح عمل کرتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے دین کو قائم کرنے کے لئے اُس کے ایک ایک حکم کو بجا لاتے ہیں۔تم کہتے تھے کہ ہمارے پاس سچی کتاب ہے حالانکہ اگرتمہارے پاس سچی کتاب ہوتی تو چاہیے تھا کہ تم اس پر عمل بھی کرتے اور تم ہدایت یافتہ وجود ہوتے۔مگر تم خود بھی تسلیم کرتے ہو کہ ہم خراب ہو گئے ہیں اس لئے لازماً اب کوئی ایسی قوم ہونی چاہیے تھی جو اپنا مال،اپنا آرام اور اپنی جانیں قربان کرتی اور خدا تعالیٰ کے