تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 428
جاتی ہیں اور اعلیٰ خواہشات دینی ترقی کی طرف لے جاتی ہیں۔فرماتا ہے اگر انسان بُری خواہشوں کو قبول کرے تو وہ نیچے کی طرف چلا جاتا ہے اور اپنے مقام کو کھو بیٹھتا ہے اگر کوئی اندھیرے میں گِر پڑے اور ٹھوکر کھائے تو وہ درگذر کے قابل سمجھا جاسکتا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص جان بوجھ کر گِر پڑے تو وہ قابل معافی نہیں ہو سکتا۔جس شخص کو دھوکا لگا ہوا ہو اور وہ غلطی میں پڑا ہوا ہووہ قابلِ عفو ہو سکتا ہے لیکن جس شخص پر سچائی کھل جائے اور وہ پھر بھی نہ مانے تو وہ قابلِ عفو نہیں ہو سکتا۔مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍمیں فرمایا کہ نہ کلی طور پر کوئی بوجھ اٹھانے والا ملے گا اور نہ جزئی طور پر۔اور مِنَ اللّٰہِ کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے شخص کو ہی مدد مل سکتی ہے جو ہوا و ہوس کی پیروی کرنے والا نہ ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تابع ہو۔اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اس کی (اسی طرح)پیروی کرتے ہیںجس طرح اس کی پیروی کرنی چاہیے۔يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَؒ۰۰۱۲۲ وہ لوگ اس پر پختہ ایمان رکھتے ہیں۔اور جو لوگ اس کا انکار کریںوہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔حَلّ لُغَات۔تِلَاوَتِہٖ : تَلَا یَتْلُوْ کے معنے پڑھنے کے ہیں۔پس یَتْلُوْ نَہٗ حَقَّ تِلَا وَتِہٖ کے معنے یہ ہیں کہ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح اس کے پڑھنے کا حق ہے یا جس غور و فکر سے اس کو پڑھنا چاہیے اسی غورو فکر سے اُسے پڑھتے ہیں۔(۲) تَـلَا کے معنے پیچھے چلنے کے بھی ہیں۔یعنی کہنے کے مطابق عمل کرنا۔پس يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ کے یہ بھی معنے ہیں کہ یَتَّبِعُوْنَہٗ حَقَّ اِتِّبَاعِہٖ (اقرب)۔جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اُس پر پورے طور پر عمل کرتے ہیں۔ان معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی استعمال ہوا ہے۔فرماتا ہے۔وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا(الشمس :۳) کہ ہم چاند کو بطور شہادت کے پیش کرتے ہیںجبکہ وہ سورج کے پیچھے چلتا ہے۔اس صورت میں حَقَّ تِلَاوَتِہٖ حال ہے۔دوسری صورت میں یہ خبر بنتا ہے حال نہیں رہتا۔یعنی وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے اُن کی خبر یہ ہے کہ وہ اس پر پورے طور پر عمل کرتے ہیں۔