تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 427

وَ لِیٌّ جو کسی کے کاموں کو چلائے۔محاورہ میں اس کے معنے دوست کے ہیں جو ذمہ دار ہو جائے۔اور وَلَایَۃٌ کے معنے حکومت کے بھی ہوتے ہیں پس وَلِیٌّ وہ ہے جو ایجنٹ اور وکیل اور ذمہ دار ہو۔(المنجد) نَصِیْرٌ مدد گار کے معنے دیتا ہے اس میں آدمی کام تو خود کرتا ہے مگر دوسرا اُسے سہارا دیتا ہے اور اُس کے لئے سہولت پیدا کرتاہے۔مدد دو طرح کی ہوتی ہے اول یہ کہ انسان کلی طور پر دوسرے کا بوجھ اُٹھالے۔دوم جزئی طور پر بوجھ اُٹھالے۔تفسیر۔اِس آیت میں اختلاف کی اصل وجہ بتلائی کہ یہود اور نصاریٰ تم سے اُس وقت تک خوش نہیں ہوں گے جب تک کہ تم اُن کی بات نہ مان لو اور یہ ہو نہیں سکتا کیونکہ تم کو اللہ تعالیٰ نے خود صداقت کی طرف ہدایت دی ہے پھر جب کہ یہ لوگ صرف رسمی ایمان رکھتے ہیں اور اُن کے ایمان کی بناء نسلی تعصبات پر ہے نہ کہ دلائل و براہین پر۔اور باوجود صداقت پیش کرنے کے یہ لوگ اُسے قبول نہیں کرتے۔تو جو شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یا فتہ ہے وہ مشاہدہ کے بعد صداقت کو کب چھوڑ سکتا ہے۔قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى۔تو اُن کو کہہ دے کہ ان رسمی ایمانوں کو ترک کرو اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو ہدایت ثابت ہو جائے اُسے قبول کرو۔کہ اصل ہدایت وہی ہوتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ورنہ اپنی طرف سے ہدایت کے ذرائع تجویز کرنا اور اُن سے نجات کو وابستہ کرنا جُھوٹ ہے۔نجات کے قابل صرف وہی شخص ہوتا ہے جو اس ہدایت کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے مان لے اور اُس پر چلے۔وَ لَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ میں گو مخاطب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن مراد آپ کی جماعت کے لوگ ہیں۔اور یہ قرآن کریم کا ایک عام اسلوبِ بیان ہے ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس بات سے بہت بالا و ارفع ہیں کہ آپؐ کی نسبت یہ کہا جائے کہ شاید آپ ؐ بھی خدا تعالیٰ کے کسی حکم کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آپؐ کی نسبت واضح الفاظ میں فرماتا ہے کہ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (اٰل عمران:۳۲)یعنی اے رسول! تُو لوگوں سے یہ کہہ دے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری اتباع کرو۔اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا۔اسی طرح فرماتا ہے۔لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب :۲۲) یقیناً تمہارے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک نیک نمونہ پایا جاتا ہے۔اگر تم نیک اور پاک بننا چاہتے ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرو۔پس اس جگہ آپؐ سے نہیں بلکہ اُمت سے خطاب کیا گیا ہے۔اور ھَویٰ کا لفظ رکھ کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ بُری خواہشات انسان کو ادنیٰ حالت کی طرف لے