تفسیر کبیر (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 644

تفسیر کبیر (جلد ۲) — Page 423

اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ انبیاء کی بعثت کے بعد پہلے رحمت کی آیات ظاہر ہوتی ہیں تاکہ جس نے ماننا ہو مان لے اور پھر جو ضِدی طبع نہیں مانتے اُن پر عذاب آجاتا ہے۔اس آیت میں لِقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ فرما کر اللہ تعالیٰ نے ایک لطیف اشارہ اس امر کی طرف فرمایا ہے کہ نشان تو بہت ظاہر ہو چکے ہیں مگر جو شخص ہر بات میں شبہ پیدا کرے اُسے ہدایت کس طرح مل سکتی ہے۔اگر تم ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنی شکی طبیعت کو چھوڑواوریقین کا مادہ پیدا کرو۔ورنہ جو لوگ صرف یہی کہنا جانتے ہیں کہ’’ اور نشان دکھائو‘‘ اُن کے لئے کہاں سے نشان آسکتے ہیں۔ہماری زبان میں بھی مشہور ہے کہ سوتے کو سب جگا سکتے ہیں لیکن جاگتے کو کوئی نہیں جگا سکتا۔اسی طرح جو لوگ ہر نشان کا انکار کر دیں اُن کے لئے کوئی نشان بھی ہدایت کا موجب نہیں بن سکتا۔یہاں آیات سے قرآن کریم کی آیات مراد نہیں بلکہ ہر قسم کے دلائل اور براہین مراد ہیں جو کسی نبی کی صداقت ثابت کرنے کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔اس آیت نے عیسائیوں کے اس اعتراض کو بھی باطل کر دیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے کوئی نشان نہیں دکھایا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم یقین رکھنے والی قوم کے لئے ہر قسم کے نشانات کھول کر بیان کر چکے ہیں۔اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّ نَذِيْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْـَٔلُ عَنْ ہم نے یقیناًتجھے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا (بنا کر) حق (اور راستی) کے ساتھ بھیجا ہے۔اور دوزخیوں کے اَصْحٰبِ الْجَحِيْمِ۰۰۱۲۰ متعلق تجھ سے کوئی باز پرس نہ کی جائے گی۔حَلّ لُغَات۔بِالْحَقِّ میں باء کے معنے ساتھ اور معیت کے ہیں۔بِالْحَقِّ اس جگہ حال واقع ہوا ہے اور حال فاعل کا بھی ہو سکتا ہے اور مفعول کا بھی۔اس جگہ دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں۔(إِمْلَاءمَا مَنّ بِہِ الرَّحْمٰن) تفسیر۔قرآن کریم کے معانی کے متعلق یہ اصول ہے کہ اگر کسی آیت کے کئی معنے ہوں اور وہ معنے دوسری آیات کے خلاف نہ ہوں تو وہ سارے کے سارے معنے چسپاں کئے جا سکتے ہیں کیونکہ قرآن کریم جن معنوں کو ردّ کرنا چاہتاہے اُن کو دوسری جگہ ردّ کر دیتا ہے لیکن جو معنے قرآن کریم کی کسی اور آیت سے ردّ نہ ہوں وہ تمام کے تمام چسپاں ہو سکتے ہیں۔یہاں بھی بِالْحَقِّ کے چار معنے ہو سکتے ہیں۔